خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 426
خطبات طاہر جلد ۲ اور پھر فرمایا: 426 خطبه جمعه ۱۹ را گست ۱۹۸۳ء سائل اور مسئول کا آپس میں ایک تعلق ہوتا ہے اور اس تعلق کا اصول طے کرنا سائل کا کام نہیں بلکہ مسئول کا کام ہے۔Beggars are never chooser مانگنے والوں کو تو کبھی بھی کوئی اختیار نہیں ہوا کرتا۔نہ تو انہیں اس امر کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ کیا مانگیں ، کیسے مانگیں اور کس ادا سے مانگیں۔کیا مانگیں تو انہیں عطا ہوگا اور کیسے مانگیں تو عطا نہیں ہوگا۔پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ جو وہ مانگیں انہیں لازماً دیا جائے ان امور کا فیصلہ تو مسئول کیا کرتا ہے۔قرآن کریم نے جہاں یہ حکم دیا کہ اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (مؤن (1) کہ مجھ سے مانگا کرو تو میں تمہیں ضرور عطا کیا کروں گا وہاں ساتھ اصول بھی بتا دیئے اور یہ بھی فرما دیا کہ میں کس قسم کی باتیں پسند کرتا ہوں اور مجھے کون کون سی ادا ئیں اچھی لگتی ہیں اور میں نے گزشتہ مانگنے والے لوگوں کی اداؤں پر کس طرح پیار کی نظر ڈالی تھی۔پس اگر تم بھی وہ راستے اختیار کرو تو تمہیں بھی عطا کیا جائے گا کیونکہ میں تو وہی خدا ہوں جس نے گزشتہ لوگوں کو بھی انعام سے نوازا۔قرآن کریم کا یہ بہت عظیم الشان احسان ہے کہ اس نے ہمارے لئے سابقہ انبیاء اور بعض غیر انبیاء کی تمام وہ دعائیں محفوظ کر دیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند آئیں۔ان کا ذکر قرآن کریم نے اس طرح فرمایا کہ جیسے بہت مدت سے ایک بڑی ہی پیاری چیز اپنے کسی عزیز کے لئے سنبھال رکھی ہو۔جب بھی کسی دعا کرنے والے نے کسی خاص ادا سے دعا کی تو خدا تعالیٰ نے اسے مقصود کائنات حضرت محمد مصطفی ملے جن سے سب سے زیادہ پیار کا اظہار ہونا تھا کے لئے سمیٹ کر رکھ لیا جسے بعض مائیں اپنے بچوں سے پیار کرتی ہیں تو انہیں کوئی چھوٹی یا بڑی چیز ملے تو وہ اسے اپنے بچوں کے لئے سنبھال کر رکھ لیا کرتی ہیں۔ہماری بڑی خالہ جان کو اپنے پوتوں یعنی سید عبداللہ شاہ صاحب کے بچوں سے بہت پیار تھا۔جب یہ بچے پیدا ہوئے تو آپ بہت بڑی عمر کی تھیں۔اگر چہ وہ ضرورت مند تو نہ تھیں لیکن ناممکن تھا کہ وہ کوئی اچھی چیز دیکھیں اور اسے اپنے بچوں کے لئے سمیٹ کر نہ رکھ لیں۔بچوں کو حامی شامی کہتے تھے۔آپ جب بھی ہمارے گھر تشریف لاتیں یا کہیں کسی دعوت پر جاتیں تو بچے انہیں چھیڑا کرتے تھے کہ خالہ جان حامی شامی کے لئے ضرور کچھ لے کر جائیں گی۔پس جس طرح انسانوں کے حامی شامی ہوتے ہیں اسی طرح خدا کے حامی شامی ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کو بھی اپنے بعض بندوں سے اتنا پیار ہوتا ہے کہ وہ ہر اچھی چیز ان کے لئے اٹھا کر رکھ