خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 420 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 420

خطبات طاہر جلد ۲ 420 خطبه جمعه ۱۲ را گست ۱۹۸۳ء رہے لوگوں کا ہے جو ان کو برہ راست یہ تعلیم دیتے ہیں اور ان کے سامنے اسلام کی یہ تصویر کھینچ ر۔ہیں اور یہ معصومیت کے ساتھ ان کے قابو آ جاتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو پیشہ ور مجرم ہیں۔ان کو پیسے دیئے جاتے ہیں کہ یہ جرم کرو۔چنانچہ جب یہ معاملہ پکڑا گیا اور پکڑا بھی اس طرح گیا کہ مرنے والوں میں سے ایک کی جیب سے ایک کارڈ صحیح سلامت نکل آیا اور اس کارڈ پر پولیس نے تحقیق شروع کی۔اب اس میں ایک اور معجزانہ تائید کا پہلو یہ بھی ہے کہ وہاں امریکہ میں قاتلوں کو پھانسی نہیں دی جاتی۔قاتل پکڑے بھی جائیں تو ان کو موت کی سزا نہیں دی جاتی۔اس وجہ سے وہ اور بھی زیادہ دلیر ہو جاتے ہیں اور جہاں آرگنائزڈ کرائم Organized Crime ہوں وہاں شہادت پر بڑا دباؤ ڈالا جاتا ہے اور پھر جیلوں کو توڑ کر بھی قاتلوں کو رہا کر والیا جاتا ہے۔پس ایک احمدی معصوم کا قاتل بالکل صاف ہاتھ سے نکل کر بچ جاتا لیکن خدا کی تقدیر نے اسکو ایک قدم بھاگنے نہیں دیا اور اسی بم سے وہ دونوں ہلاک ہو گئے جس ہم سے وہ مسجد کو اڑانے کے لئے آئے تھے۔پولیس نے جب مزید تحقیق کی تو بعض بڑے ہی تکلیف دہ اور قابل افسوس اور قابل شرم پہلو سامنے آئے ہیں۔چنانچہ پولیس کی رپورٹ یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ایک بدقسمت ملک کے مولویوں نے اپنے خرچ پر بلوایا اور وہاں ان کو اس بات کی تربیت دی کہ احمدی انتہائی قابل نفرت چیز ہیں ان کا قتل سب سے عظیم انعام تمہیں عطا کرتا ہے اور پھر دنیا میں پیسوں کا لالچ دیا اور عقبی میں جنت کا۔چنانچہ اس طرح تیار کر کے ان کو بھجوایا گیا۔پس یہ دونوں کوئی اتفاقی جوش میں آنے والے لوگ نہیں تھے بلکہ ایک گہری سازش کے نتیجہ میں تیار کئے ہوئے دو مجاہدین تھے چونکہ عین وقت پر یہ کیس پکڑا گیا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے توقع ہے کہ مجرموں کا یہ سلسلے کا سلسلہ ننگا کر دیا جائے گا۔بہر حال جو بھی واقعہ ہوا ہے اس سے اگر کچھ لوگوں کے دماغ میں یہ خیال ہے کہ احمدی ڈر جائے گا یا اس کے نتیجہ میں تبلیغ سے باز آجائے گا تو یہ ان کا بڑا ہی احمقانہ خیال ہے۔احمدی تو ڈرنے کی خاطر پیدا ہی نہیں کیا گیا، احمدی کے دل اور اس کے حوصلے سے ایسے لوگ واقف ہی نہیں ہیں۔احمدی تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم حضرت محمد مصطفی ﷺ کے غلام اور سپاہی ہیں لوگوں کی نگاہیں ہماری شان سے ناواقف ہیں، ان کو علم نہیں کہ ہم کون لوگ ہیں۔ہم یہ جانتے ہیں کہ قدم قدم پر اللہ کی نصرت ہمارے ساتھ ہے اس لئے اس بات کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ ڈیٹرائٹ امریکہ یا دنیا