خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 421
خطبات طاہر جلد ۲ 421 خطبه جمعه ۱۲ را گست ۱۹۸۳ء کے کسی گوشہ میں اس قسم کی ظالمانہ حرکتوں کے نتیجہ میں احمدی تبلیغ سے باز آجائے گا۔وہ تو بہر حال دعوت الی اللہ دے گا اور دیتا چلا جائے گا اور ایک سے سو اور سو سے ہزار اور ہزار سے لاکھوں داعی الی اللہ پیدا ہوتے چلے جائیں گے اس لئے کسی خوف اور خطرہ کا ہرگز مقام نہیں ہے۔شہادتیں تو دعوت الی اللہ کا کام کرنے والی قوموں کے مقدر میں ہوتی ہیں اور یہ شہادتیں انعام کے طور پر مقدر ہوتی ہیں سزا کے طور پر مقدر نہیں ہوا کرتیں اس لئے میں ان لوگوں کو جو اس صدمہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں یعنی ڈیٹرائٹ کے لوگوں کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ اے ڈیٹرائٹ اور امریکہ کے دوسرے شہروں میں بسنے والے احمد یو! اور اے مشرق و مغرب میں آبا د اسلام کے جاں نارو! اس عارضی غم سے فحل نہیں ہونا کہ یہ ان گنت خوشیوں کا پیش خیمہ بننے والا ہے۔اس شہید کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہے اور اس راستہ سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹو جس پر چلتے ہوئے وہ مرد صادق بہت آگے بڑھ گیا۔تمہارے قدم نہ ڈگمگائیں تمہارے ارادے متزلزل نہ ہوں۔دیکھو! تم نے خوب سوچ سمجھ کر اور کامل معرفت اور یقین کے ساتھ اپنے لئے راستی کی وہ راہ اختیار کی ہے جس پر صالحیت کی منزل کے بعد ایک شہادت کی منزل بھی آتی ہے اسے خوف و ہراس کی منزل نہ بناؤ، یہ تو ایک اعلیٰ وارفع انعام کی منزل ہے جس پر پہنچنے کے لئے لاکھوں ترستے ہوئے مر گئے اور لاکھوں ترستے رہیں گے۔خالد بن ولید کا وقت یاد کرو جب بستر مرگ پر روتے روتے اس کی ہچکی بندھ گئی اور ایک عیادت کرنے والے نے تعجب سے پوچھا کہ اے اللہ کی تلوار! تو جو میدان جہاد کی ان کڑی اور مہیب منزلوں میں بھی بے خوف اور بے نیام رہا جہاں بڑے بڑے دلاوروں کے پتے پانی ہوتے تھے آج تو موت سے اتنا خوفزدہ کیوں ہے؟ تجھے یہ بزدلی زیب نہیں دیتی۔خالد نے اسے جواب دیا کہ نہیں نہیں خالد بن ولید موت سے خائف نہیں ہے بلکہ اس غم سے نڈھال ہے کہ راہ خدا میں شہادت کی سعادت نہ پاسکا۔( الاصابہ فی تمییز الصحابہ ذکر خالد بن ولید جلد اول صفحه ۴۱۵ نمبر ۱ ۲۲۰ - اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ جلد ۲ صفحہ ۱۰۰ ذکر خالد بن ولید نمبر ۱۳۹۹) دیکھو یہ وہی خالد تھا جو ہر میدان جہاد میں یہ تمنا لے کر گیا کہ کاش میں بھی ان خوش نصیبوں میں داخل ہو جاؤں جو اللہ کی راہ میں شہید کئے جاتے ہیں، یہ تمنا لئے ہوئے وہ ہر خطرہ کے بھنور میں کود پڑا ، ہر اس گھمبیر مقام پر پہنچا جہاں سرتن سے جدا کئے جا رہے تھے اور گردنیں کائی جا رہی تھیں اور سینے برمائے جارہے تھے اور اعضائے بدن کے ٹکڑے کئے جارہے تھے لیکن ہرایسے