خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 419 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 419

خطبات طاہر جلد ۲ 419 خطبه جمعه ۱۲ را گست ۱۹۸۳ء ہوئے اور وہاں سے یہ دونوں مسجد کو بم سے اڑانے کے نیت سے مسجد تک پہنچے لیکن اسی ہم سے دونوں خود بھی ہلاک ہو گئے۔امریکہ میں یہ واقعہ ایک بہت ہی بڑی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ جن لوگوں کو امریکہ کے حالات کا علم ہو وہ جانتے ہیں کہ وہاں اگر اس قسم کا قاتل ہاتھ سے نکل جائے تو اس کا کچھ بھی پتہ نہیں لگتا۔بعض تنظیمیں ذمہ داری قبول کر لیتی ہیں اور پھر یہ معاملہ اسی طرح الجھے کا الجھا رہ جاتا ہے اور خصوصا ایک کمزور اور نہتی اور معصوم جماعت جس کا ملک میں کوئی بڑا رسوخ نہ ہو اس کی خاطر تو کوئی بھی جد و جہد نہیں کرسکتا۔پولیس کی تحقیق کے مطابق بلیک مسلم آرگنا ئزیشن اس جرم کی ذمہ دار ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کو اسلام کے نام پر بعض غیر ممالک ایسی غلط اور مکر وہ تعلیمات دیتے ہیں اور ان کے دل میں کچھ ایسا یقین جاگزیں کر دیتے ہیں کہ غیر مسلم کا قتل عام تمہیں غازی اور شہید بنادے گا اور بغیر کسی وجہ کے غیر مسلم کا قتل تمہارے لئے جنت کی ضمانت ہے۔یہ لوگ اس سے پہلے بھی کئی قسم کے بھیانک جرم کر چکے ہیں اور بڑے لمبے عرصہ تک تلاش کے باوجود اور کروڑوں روپیہ خرچ کرنے کے باوجود یہ پکڑے نہیں جاسکے۔چنانچہ دو تین سال پہلے کی بات ہے سان فرانسسکو میں اسی قسم کے بھیانک قتلوں کی واردات کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔عموماً نو جوان جوڑوں کو اچانک ظالمانہ طور پر قتل کر کے پھینک دیا جا تا تھا اور ان کے اس طرح قتل کے پیچھے کوئی ایسا محرک نظر نہیں آتا تھا جس کے ذریعہ پولیس قاتلوں تک پہنچ سکے۔چنانچہ ایسے چوبیں قتل ہوئے سارے امریکہ میں خوف و ہراس کی ایک لہر دوڑ گئی۔یہ بہت ہی بھیانک جرائم تھے ایک ہی شہر میں یکے بعد دیگرے چو ہیں قتل ہو جانا کوئی معمولی بات نہیں۔امریکہ کی تمام Investigation Agencies نے بہت زور مارا لیکن یہ لوگ نہیں پکڑے گئے۔بالآخر کسی اور جرم میں ایک شخص اتفاقاً پکڑا گیا۔اس سے جب تفتیش آگے بڑھی تو پتہ لگا کہ یہ وہی گروہ ہے جو لوگوں کو قتل کیا کرتا تھا۔ان سے کچھ ایسا لٹریچر بھی دستیاب ہوا اور کچھ انہوں نے خود بتا بھی دیا کہ ہمیں جو اسلام سکھایا گیا ہے اس میں یہی بتایا گیا ہے کہ ہر غیر مسلم کو قتل کر دو، جتنے زیادہ قتل کرو گے اتنے زیادہ ثواب کے مستحق ٹھہرو گے۔پس وہاں بیچاری ایسی ہی کئی تنظیمیں ہیں جن کو اسلام کے ساتھ اس طرح متعارف کرایا جا رہا ہے۔وہ معصوم لوگ ہیں ان کا اتنا قصور نہیں جتنا ان۔