خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 414 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 414

خطبات طاہر جلد ۲ 414 خطبه جمعه ۵ را گست ۱۹۸۳ء وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ (النساء:۲) کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جس کا واسطہ دے کر تم مانگتے ہو اور اپنے لئے خیر طلب کرتے ہو وَ الْأَرْحَامَ اور ہم تمہیں متنبہ کرتے ہیں کہ رحموں کا حق ادا کرنا۔اس میں انسان کو متوجہ کیا گیا ہے کہ اپنے ماں باپ کا حق تو تم ادا کرتے ہی ہو تنبیہ کا خاص پہلو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دو رحموں کے رشتے آپس میں ہورہے ہوتے ہیں، جب ایک کے ماں باپ کا تعلق اپنی بیٹی یا بیٹے کے ذریعہ دوسرے کے ماں باپ سے ہو رہا ہوتا ہے اور بیچ میں ایک سنگم پیدا ہو جاتا ہے، ایک ایسا مقام آجاتا ہے جہاں میاں بیوی کے ماں باپ دونوں کے ماں باپ بن جاتے ہیں۔تو فرمایا کہ اس بات کا خیال رہے کہ اب تمہارے ارحام کے تعلقات وسیع ہورہے ہیں۔اگر تمہیں ہم سے تعلق اور پیار ہے، اگر تم چاہتے ہو کہ ہم تم سے رحمت کا سلوک کریں تو ان رحمی رشتوں کا خیال رکھنا اور کوشش کرنا کہ جس طرح اپنے ماں باپ سے پیار کرتے ہو اور خدمت کرتے ہو دوسرے کے ساتھ بھی کرو۔یہ ایک ایسا مثبت نظریہ ہے کہ اگر دونوں میاں بیوی یہ کوشش کریں کہ اپنے ماں باپ سے بڑھ کر نہیں تو کم از کم اپنے ماں باپ کی طرح ہی ایک دوسرے کے ماں باپ کا خیال رکھیں تو اس طرح دونوں میں ایثار پیدا ہو جائے گا دونوں میں ایک دوسرے سے زیادہ محبت پیدا ہو جائے گی اور بعض اوقات جو زیادتیاں ہو جاتی ہیں وہ بالکل پلٹ جائیں گی ، جہنم کی بجائے جنت بن جائے گی لیکن اگر آپ عبادت تو کرتے رہیں مگران باتوں کا خیال نہ کریں اور معاشرہ میں گالی گلوچ ہو تو اس کے نتیجہ میں بدخلقی زیادہ ہو جائے گی لیکن اگر ذکر الہی کی عادت ہو تو آپ کو ایک دوسرے کے رحمی رشتوں کا لحاظ کرنے کی زیادہ تو فیق ملے گی۔پس یہ دونوں خوبیاں ایسی ہیں جن سے ایک دوسرے کو تقویت ملتی ہے اس لئے آپ ذکر الہی پر بہت زور دیں، نماز، ذکر لہی اور درود شریف سے اپنی زبان اور اپنے دل کو تر رکھیں تو پھر جب کبھی آپ عادتاً مخش کلامی کرنے کی کوشش کریں گے تو آپ کا نفس آپ کو جھنجھوڑے گا اور متوجہ کرے گا کہ بھئی تم کیسے انسان ہو کہ دودھ کے لئے وہی برتن اور پیشاب کے لئے بھی وہی۔کھانے کے لئے بھی وہی اور گندگی کے لئے بھی وہی برتن استعمال کرتے ہو، تمہیں شرم نہیں آتی۔ذکر الہی سے دل و جان معطر کرتے کرتے اس میں ایسا گند ڈال دیتے ہو۔کیا اس منہ کو جس پر محمد رسول اللہ علیہ اور خدا تعالیٰ کا نام چل رہا ہو یہ گند زیب دیتا ہے؟ آپ کا نفس ہی آپ کو توجہ دلائے گا اور رفتہ رفتہ آپ