خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 413 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 413

خطبات طاہر جلد ۲ 413 خطبه جمعه ۵ را گست ۱۹۸۳ء ہیں۔اس کے ماں باپ کو گالی دے دی جائے تو یہ ہمارا حق ہے لیکن اگر وہ ہمارے ماں باپ کا احترام چھوڑ نا تو در کنار ذراسی بے اعتنائی بھی کرے تو ہمارا حق ہے کہ اسے جوتیاں ماریں، گالیاں دیں، اس کے ماں باپ کو کوسیں اور ذلیل و رسوا کر کے نکال دیں۔معاشرہ کا یہ رجحان نہایت ہی ظالمانہ اور جہنم پیدا کرنے والا ہے اور یہ آپ کی تسکین کی جنتیں ختم کر دے گا۔اس کے برعکس بعض عورتیں یہ بجھتی ہیں کہ ہمارا تو حق ہے کہ ہم بد کلامی کریں، شور ڈالیں، کسی کے ماں باپ کو گالیاں دیں مگر خاوند کا یہ حق نہیں کہ وہ برا منائے یا ہمارے ماں باپ کے متعلق کچھ کہے۔پس اس صورت حال نے معاشرہ میں اتنے دکھ پیدا کئے ہوئے ہیں کہ جس گھر میں یہ واقعہ ہوتا ہے صرف وہیں تک محدود نہیں رہتا بلکہ رشتہ داریوں کے تعلقات کے نتیجہ میں اردگرد پھیلنا شروع ہوجاتا ہے اور ایسا معاشرہ جس کی تعریف حضرت محمد مصطفے ﷺ نے ایک مومن کے معاشرہ کے طور پر کی ہے اس میں تو یہ دکھ اس تیزی سے ہر جگہ سرایت کرتا ہے کہ ہر گھر کا دکھ دوسرے گھر کا دکھ بن جاتا الله ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ مومنوں کی مثال تو ایک بدن کی سی ہے۔جس طرح پاؤں کی انگلی کے کنارے پر بھی ایک کانٹا چبھے تو سارا بدن بے چین ہو جاتا ہے۔(صحیح مسلم کتاب البر والصلوۃ باب تراحم المؤمنین وتعاطفهم ) اسی طرح اگر ایک احمدی گھرانے میں بھی دکھ پہنچے گا تو جس جس احمدی کو علم ہوتا چلا جائے گا وہ دکھ محسوس کرنا شروع کر دے گا۔تو بجائے اس کے کہ آپ کا طرز عمل معاشرہ میں جنت پیدا کرنے والا ہو آپ جہنم کیوں پیدا کرتے ہیں؟۔اس طرح آپ خود بھی دکھ اٹھاتے ہیں اور دوسروں کے لئے بھی دکھ کا سامان کرتے ہیں۔میاں بیوی کا تعلق ایسا ہے کہ جب تک رہتے ہیں حسن اخلاق سے رہنا چاہئے۔اگر حسن اخلاق سے نہیں رہ سکتے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ احسان کے ساتھ جدا ہو جاؤ لیکن جدائی میں بھی احسان کا پہلو مد نظر ر ہے اور کوئی تلخی نہ پائی جائے۔یہ ہے اسلامی معاشرہ لیکن اس کے برعکس جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ماحول گندا ہو چکا ہے اور جماعت پر بھی ان باتوں کا بہت برا اثر ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اس بدی کو دور کرنے کے لئے کیا طریق اختیار کرنا چاہئے۔قرآن کریم نے اس کا بہت ہی پاکیزہ حل بیان فرمایا ہے اور ایک مثبت طاقت آپ کو عطا کی ہے۔قرآن کریم نے جہاں نکاح کا مضمون بیان کیا ہے وہاں فرماتا ہے: