خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 410
خطبات طاہر جلد ۲ 410 خطبه جمعه ۵ را گست ۱۹۸۳ء بہت دور چلے گئے ہیں لیکن پھر بھی وہ خوبیاں ان کی حفاظت کر رہی ہیں اور بعض معاملات میں تو مسلمان دوسروں کے مقابل پر نمایاں نظر آتا ہے۔مثال کے طور پر محمد رسول اللہ علیہ نے مسلمانوں سے ظلم کرنے کی طاقت چھین لی ہے۔بعض اوقات ایک مسلمان بظا ہر ظلم کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے اسے ظلم تو نہیں کہا جا سکتا لیکن ہمیں وہ اس لئے ظلم نظر آتا ہے کہ آنحضرت علیہ نے انصاف کا معیار بہت بلند کر دیا ہے۔کہاں ہندوؤں کا ظلم کہاں سکھوں کے مظالم اور کہاں ان قوموں کا حال جو ایک دوسرے پر ظلم کرتی ہیں اور کہاں وہ ظلم جسے ہم ظلم کہتے ہیں جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کے بعض ماننے والے اپنے ساتھیوں پر یا جن سے وہ روٹھ چکے ہوں کرتے ہیں جو ہمیں تو ظلم نظر آتا ہے لیکن دنیا کی نظر میں اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔پس حضور اکرم ﷺ کا ہی احسان ہے کہ وہ حسنات جو آپ ﷺ نے پیدا کی تھیں وہ کلیہ غائب نہیں ہوئیں جتنی رہی ہیں اس حد تک ان میں بدی داخل نہیں ہو سکی اور نبوت کی ہر لہر جو دنیا میں آئی اس نے انسان کو پہلے سے بلند تر مقام پر چھوڑا ہے اور کچھ ایسی نیکیاں پیچھے چھوڑیں جن میں وزن تھا اور باقی رہنے والی تھیں اور بدیوں کو کبھی بھی ان پر یلغار کر کے پوری طرح مغلوب کرنے کی توفیق نہیں ملی۔یہ ہے انسانی تہذیب کا ماحصل کہ ہر تاریخی دور اپنے سے بہتر دور چھوڑ کر گیا اور پھر ہر آئندہ آنے والا دور اپنے سے بہتر حالت چھوڑ کر گیا ہے۔اس تمام تدریجی ترقی کا راز نبوت ہے۔ہر دفعہ نبوت ہی کے ذریعہ انسان کی تعلیم و تربیت ہوئی ہے۔پس آج بھی اِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّیات کا مضمون جاری ہے، آج بھی احمدیوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو حسنات عطا ہوئیں اور جن کے نتیجہ میں ہماری بدیاں دور ہونی شروع ہوئیں یہ بھی نبوت ہی کی برکت ہے۔ہم میں اور غیروں میں کیا فرق ہے؟ یہی تو فرق ہے کہ ہم آنحضرت ﷺ کے فیض نبوت سے وابستہ ہو چکے ہیں جب کہ بہت سے لوگ اس کا انکار کر چکے ہیں۔ہم اس دور میں داخل ہوئے ہیں جہاں حسنات بدیوں کو دور کرنا شروع کر دیتی ہیں۔پس ان حسنات کے ساتھ بڑی قوت سے چھٹے رہیں اور تاریخ انسانی سے سبق حاصل کریں۔جب بھی آپ میں مثبت نیکیاں کم ہونی شروع ہو جائیں گی لازماً آپ میں بدیاں داخل ہونا شروع ہو جائیں گی اور جب بدیاں داخل ہو جائیں تو محض یہ تعلیم کہ بدیاں چھوڑ دو یہ کسی کام نہیں آئے گی۔کبھی کوئی کسی کے