خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 409
خطبات طاہر جلد ۲ 409 خطبه جمعه ۵ را گست ۱۹۸۳ء سال پہلے موجود نہیں تھا۔ بدی کے باوجود انسان پر بدی ویسی قدرت اختیار نہیں کر سکی و یا قبضہ نہیں جما سکی جیسا اسے پہلے حاصل تھا کیونکہ کچھ نہ کچھ نیکیاں باقی رہ جاتی ہیں جو بدیوں کو اندر نہیں آنے دیتیں ۔ چنانچہ ایک مرتبہ یونیورسٹی آف لندن میں ایک عیسائی نے مجھ پر اعتراض کیا کہ دیکھو ! تم بڑے دعوے کرتے ہو کہ محمد رسول کریم ﷺ نے کایا پلٹ دی اور یہ کر دیا اور وہ کر دیا جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ چند سال بعد وہ حال ہوا ہے اور تمہاری آپس میں وہ لڑائیاں ہوئی ہیں کہ ساری اخوت جاتی رہی، تہذیب و تمدن کی ساری باتیں ختم ہو گئیں اور قصہ بن گئیں جنہیں تم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اچھالتے ہو اور ہم پر اپنی برتری ثابت کرتے ہو۔ وہاں کے لوگ اعتراض تو کرتے ہیں لیکن کج بحث نہیں ہوتے۔ اس سے میں نے کہا کہ تم نے صرف سطحی مطالعہ کیا ہے۔ تم مقابلہ کر رہے ہو حضر مصطفے کے اپنے زمانہ کا آپ کے بعد زمانہ سے۔ میں نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ کے ہونے اور نہ ہونے میں کوئی فرق نظر نہ آئے ۔ آپ کی اتنی عظیم الشان روحانی قوت تھی ، ایسا صلى الله حضرت محمد عظیم وجود تھا کہ گویا نیکیوں کا ایک عظیم الشان سورج طلوع ہو چکا تھا ،اس وجود کے ہونے یا نہ ہونے میں کوئی فرق دکھائی نہ دے، یہ بات عقل کے خلاف ہے اور بیوقوفوں والا تصور ہے۔ پس آپ جو دعویٰ صلى الله کر رہے ہیں اس کا حل یہ ہے کہ آپ رسول کریم ﷺ کے پہلے زمانے کا آپ کے بعد کے زمانہ سے صلى الله علی مقابلہ کر کے دیکھیں۔ جس وقت حضرت محمد مصطفے ﷺ نے عرب میں قدم رکھا تو عرب کی کیا حالت تھی ؟ اسے اٹھایا اور بڑی بلندیاں عطا کیں، جب چھوڑ کر گئے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ دوبارہ وہ اپنے مقام سے گر گئے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کا معاشرہ اتنا نہیں گرا جتنا پہلے حالت تھی ۔ بلکہ عرب کی پہلی حالت کے مقابل پر جب آپ دیکھتے ہیں تو وہ اوج ثریا پر قدم رکھتا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔ کہاں جاہل عرب اور کہاں امیہ کا دور، کہاں جاہل عرب اور کہاں عباسیوں کا دور ، ہمیں وہ دور اس لئے دکھ دیتا ہے کہ ہم اسے حضرت محمد رسول کریم ﷺ کے زمانہ پر رکھ کر دیکھتے ہیں تو وہ دور داغ داغ نظر آتا ہے جس سے بڑی تکلیف پہنچتی ہے لیکن آنحضرت ﷺ نے جو کچھ عطا کیا وہ سب کچھ زائل نہیں ہوا، ہزاروں سال بھی اسے ضائع نہیں کر سکے ۔ آج چودہ سو سال گزر چکے ہیں لیکن آج بھی مسلمانوں میں ایسی خوبیاں جاری ہیں کہ گرے پڑے بھی وہ باقی قوموں کے مقابل پر ان خوبیوں میں بہتر ہیں۔ آنحضرت صلى الله رت علی عربوں میں بعض ایسی ایسی خوبیاں داخل کر گئے کہ آج وہ اسلام سے اگر چہ