خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 405
خطبات طاہر جلد ۲ 405 خطبه جمعه ۵ را گست ۱۹۸۳ء جانے کے بعد جب آپ تدبر اور غور کریں تو آپ قرآنی بیانات کو حیرت انگیز طور پر سچا پائیں گے۔پس یہ بنیادی بات ہے کہ نیکی ایک مثبت پہلو ہے اور بدی نیکی کے فقدان کا نام ہے۔جوں جوں نیکی کم ہوگی بدی زیادہ ہونی شروع ہو جائے گی۔یہ ناممکن ہے کہ نیکی موجود ہو اور پھر بدی اندر داخل ہو جائے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اگر معاشرہ کی اصلاح چاہتے ہو تو نیکیوں میں سے سب سے اعلیٰ نیکی اختیار کرو، عبادات قائم کرو اور عبادات سے اپنے اوقات کو گھیر لو اور کوئی گنجائش بھی باقی نہ چھوڑ و جہاں عبادت کا پہرہ نہ لگا ہو۔عبادتیں جو حسن عطا کریں گی وہ تمہاری برائیوں کے دور کرنے کا ذمہ دار ہو جائے گا۔یہ اس کلام کا خلاصہ ہے جو میں نے آپ کے سامنے پڑھ کر سنایا ہے۔اگر آپ مزید غور کریں تو دو قسم کے نمازی نظر آئیں گے۔ایک وہ جو نماز پڑھتے ہیں لیکن ان کے معاشرہ کی بدیاں دور نہیں ہو رہی ہوتیں اور دوسرے وہ جو جتنا خدا کے قریب ہوتے ہیں اتنا ہی ان میں پاک تبدیلیاں ہونے لگتی ہیں، ان کی کایا پلٹ جاتی ہے، ان کے مزاج کی کیفیت ہی بدل جاتی ہے یہاں تک کہ ان میں قوت جذب پیدا ہو جاتی ہے۔ان کے قرب سے آپ لذت محسوس کرتے ہیں، ان کی صحبت میں آپ اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں اور ان سے کسی قسم کے شر کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔ہاں یہ امید رہتی ہے کہ کوئی نہ کوئی خیر کی بات ان سے پہنچے گی۔یہی وہ عابد ہیں جو حقیقی اور سچی عبادت کرتے ہیں اور جس کا ثبوت وہ ظاہری علامتیں ہیں جو اس دنیا میں ہی ان میں پیدا ہو جاتی ہیں۔ورنہ عبادت کے باوجود اگر برائیاں موجودر ہیں تو لا ز ما وہ عبادتیں جھوٹی ہیں اور ان میں کوئی رخنہ اور کمزوری پیدا ہوگئی ہے کیونکہ قرآن کریم واضح طور پر اعلان کر رہا ہے کہ عبادت حسنات میں سے ایک اعلیٰ درجہ کی حسنہ ہے اور عبادت کے ہوتے ہوئے لازماً تمہاری برائیاں کم ہونی شروع ہو جانی چاہئیں ، جیسے کسی برتن میں تیل ہو اور اس میں پانی ڈال دیا جائے تو وہ تیل کو دھکیلنا شروع کر دیتا ہے کیونکہ وہ زیادہ وزنی ہے اور اگر آپ برتن مکمل طور پر پانی سے بھر دیں تو پورا تیل باہر نکل جائے گا۔پس نیکیوں میں ایک وزن ہے اور باقی رہنے کی صلاحیت ہے،ان کے ہوتے ہوئے برائیوں کے مقدر میں لازماً فرار ہے۔چنانچہ اسی لئے قرآن کریم مختلف پہلوؤں سے اس حقیقت کو کھولنے کے لئے مختلف طریق اختیار فرماتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے: وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا (بنی اسرائیل ۸۱)