خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 402
خطبات طاہر جلد ۲ 402 خطبہ جمعہ ۲۹؍ جولائی ۱۹۸۳ء پس ایک ہی قوم ہے جو آزاد ہے اور اے جماعت احمد یہ اوہ تم ہو اور تم ہو اور تم ہو کیونکہ تم وہ لوگ ہو جو ہمیشہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر اپنے خدا کی طرف طمع سے دیکھتے ہو اور ہمیشہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر خدا کے حضور اپنے خوف کو امن میں بدلنے کے لئے روتے اور گریہ وزاری کرتے ہو۔قرآن کریم ہمیں انہی دو قوموں کے متعلق بتاتا ہے اور یہی دو قومیں ہیں جو ہمیشہ قیامت تک برسر پیکار رہیں گی۔حقیقی آزاد قو میں وہی ہیں جو پرانی اصطلاح میں آزاد قو میں ہیں جو خدا کے حضور گردن جھکاتی ہیں اور ہر دوسرے سے ان کی گردن آزاد کی جاتی ہے جو خدا کی طرف طمع سے دیکھتی ہیں اور خدا کے سوا ہر دوسری حرص سے ان کا دل پاک اور آزاد کر دیا جاتا ہے اور جماعت احمدیہ میں ان کی اجتماعی شکل نظر آتی ہے اس کے سواد نیا میں ہر قوم کسی نہ کسی شکل میں دنیا کی غلام نظر آئے گی۔یہ عجیب ظلم ہے اور تمسخر کی حد ہے کہ اس قوم کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ اس کو انگریزوں نے قائم کیا تھا یا فلاں نے اس کو کھڑا کیا یا فلاں کا خود کاشتہ پودا ہے۔جس کا خود کاشتہ پودا ہو حرص کی حالت میں تو اس کی طرف دیکھا جاتا ہے ، خوف سے بچنے کے لئے اس کو پکارا جاتا ہے مگر کوئی آئے تو سہی کبھی ربوہ کی گلیوں میں اور راتوں کو پھر کر تو دیکھے کہ رونے والے اور گریہ وزاری کرنے والے کس کو پکار رہے ہوتے ہیں۔کیا کسی احمدی کی زبان پر خدائے حی و قیوم کے سوا بھی کوئی نام جاری ہوتا ہے؟ کیا خدا کے سوا بھی کسی درگاہ پر آنسو بہانے والا ملتا ہے؟ پس آج دنیا میں ایک ہی آزاد قوم ہے اور وہ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ جماعت احمد یہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو بڑے ہی پیارے رنگ میں یوں بیان فرمایا ہے : چھو کے دامن تیرا ہر دام سے ملتی ہے نجات لا جرم در پہ ترے سر کو جھکا یا ہم نے دلبرا! مجھ کو قسم ہے تیری یکتائی کی آپ کو تیری محبت میں بھلا یا ہم نے آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه: ۲۲۵) روزنامه الفضل ربوه ۱۱ را گست ۱۹۸۳ء)