خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 401 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 401

خطبات طاہر جلد ۲ 401 خطبہ جمعہ ۲۹؍ جولائی ۱۹۸۳ء وہ اس بات پر بھی انحصار نہیں کرتا کہ وہ سونے چاندی اور ہیرے جواہرات کی کانیں اس کے قبضہ میں آتی ہیں یا نہیں، اس بات سے مستغنی ہوتا ہے کہ امریکہ اس کا دوست ہے یا روس اس کا دوست ہے یا چین اس کا دوست ہے یا جاپان اس کا دوست ہے ایک ہی ذات ہے جس کے سامنے اس کا سر جھکتا ہے اور وہ اپنے رب کی غلامی اختیار کرتا ہے اور یہی غلامی اس کو ہر دوسری غلامی سے آزاد کر دیتی ہے۔اور یہی حال اس کے خوفوں کا ہے۔ہر خوف وخطر کی حالت میں اسے اپنے خدا کی مدد کا یقین ہوتا ہے اس لئے جب کبھی اس پر خوف کی حالت طاری ہوتی ہے اسے چین کی طرف نہیں دیکھنا پڑتا، خوف کی حالت میں اسے امریکہ پر بنا نہیں کرنی پڑتی ، خوف کی حالت میں وہ انگلستان کی دوستی پر انحصار نہیں کرتا۔وہ یہ نہیں دیکھتا کہ روس کب اس کی مدد کے لئے آئے گا یا چین کب اپنی فوجیں بھیجے گا۔وہ جانتا ہے کہ وہ رب کریم جس نے مجھے لا خوف ( البقرة :۱۱۳) کی ضمانت دی ہے، وہ ہر آن میرے قریب ہے اور پیشتر اس کے کہ دشمن مجھے کوئی گزند پہنچا سکے آسمان سے مدد کے لئے اس کی فوجیں اتریں گی اور ممکن نہیں ہے کہ دشمن پہل کر جائے اور خدا کا فضل دیر میں نازل ہو۔جس قوم کی آزادی کی ایسی عظیم الشان ضمانت دی گئی ہو اس کو کیا فکر ہے۔اس کے سوا کوئی قوم آزاد ہے ہی نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں دو ہی قو میں ہیں۔جس طرح جغرافیائی تقسیم ہوتی ہے اس طرح روحانی تقسیم میں بھی دو ہی قسم کی قومیں ہیں ایک غلام تو میں ہیں اور دوسری آزاد قوم ہے۔غلام قوموں میں وہ ساری قو میں شامل ہیں جو خوف اور طمع کی حالت میں غیر اللہ کی طرف دیکھا کرتی ہیں ان میں سے کوئی بھی آزاد نہیں ہے۔جو قو میں بظاہر آزاد نظر آتی ہیں اگر حقیقت میں ان کا جائزہ لیا جائے تو وہ بھی آزاد نہیں۔مثلاً امریکہ کو آپ آزاد سمجھتے ہیں لیکن چونکہ ان کی طمع غیر اللہ کی طرف ہے، ساری قوم کسی نہ کسی غلامی میں بندھی ہوئی ہے۔ہزار قسم کی حرص و ہوا اور گناہوں میں مبتلا ہیں اور کئی قسم کی قیود میں وہ جکڑے گئے ہیں۔وہ اپنی اس تکلیف کو دن بدن زیادہ سے زیادہ محسوس کرتے چلے جاتے ہیں۔بظا ہر کتنی بڑی آزاد قوم ہے لیکن در حقیقت تمام کی تمام قوم کسی نہ کسی عذاب، کسی نہ کسی مصیبت اور کسی نہ کسی بندھن میں گرفتار ہے۔بظاہر بے خوف اور دنیا کی سب سے طاقتور قوم ہے لیکن اس کے باوجود اس ملک میں اتنا خوف ہے کہ خوفزدہ ہو کر پاگل ہونے والوں کی تعداد دنیا کے سب ملکوں سے زیادہ ہے۔نہ اندرونی خوف ان کو چھوڑ رہا ہے اور نہ بیرونی خوف سے وہ آزاد ہیں۔