خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 400 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 400

خطبات طاہر جلد ۲ 400 خطبہ جمعہ ۲۹؍ جولائی ۱۹۸۳ء پھر اللہ تعالیٰ بڑے ہی پیارے رنگ میں ان لوگوں کی جزا بیان فرماتا ہے جو اس کی خاطر راتوں کو اٹھ اٹھ دعائیں کرتے ہیں۔فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاء بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ فرماتا ہے کسی آنکھ نے وہ تسکین قلب نہیں دیکھی ، آنکھوں کی اس ٹھنڈک تک کوئی تصور پہنچ نہیں سکتا جو ہم ان بندوں کو عطا کرتے ہیں کیونکہ یہ ان کی خاطر چھپا کر رکھی گئی ہیں۔اب دیکھیں اس میں فصاحت و بلاغت کا کیسا کامل مضمون ہے۔اللہ تعالیٰ کا کیسا پیارا انداز ہے۔پہلے یہ فرمایا تھا کہ یہ میرے بندے راتوں کو اٹھ اٹھ کر دنیا سے چھپ کر اور مخفی طور پر میری راہ میں آنسو بہا رہے ہوتے ہیں جب لوگوں کو علم ہی نہیں ہوتا کہ کیا ہورہا ہے یہ اس وقت راتوں کو اٹھتے ہیں اور میرے حضور حاضر ہو جاتے ہیں تو ان کی جزا بھی تو ملتی جلتی ہونی چاہئے۔فرمایا جس طرح ان کے آنسو دنیا سے چھپتے ہیں میں ان پر نازل ہونے والی نعمتوں کو بھی دنیا کی نظر سے چھپا دیتا ہوں اور صرف ان پر کھولتا ہوں۔میرے اور میرے ان بندوں کے درمیان پیار کا ایسا رشتہ قائم ہو جاتا ہے جس سے دنیا والے کلیتہ بے خبر رہتے ہیں کہ یہ کیا واقعہ ہو گیا ہے۔غریب لوگ جو خدا کے دربار میں حاضر ہوتے ہیں متمول ہو کر واپس لوٹتے ہیں۔وہ خالی دامن لے کر جاتے ہیں اور دنیا اور آخرت کے خزانے سمیٹ کر واپس آجاتے ہیں اور ان کے دل میں ایسا سرور پیدا ہوتا ہے کہ دنیا والے اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔جیسے ان کے آنسو چھپے ہوئے تھے ویسے ہی خدا تعالیٰ اپنے پیار اور محبت کے اظہار میں ان کی لذتیں بھی دنیا والوں سے چھپا دیتا ہے اور طرز بیان یہ ہے کہ دنیا کی گندی آنکھیں اس قابل نہیں ہیں کہ ان کی لذتوں پر نظر ڈال سکیں۔یہ خدا کے پاک بندے ہیں ، ان کی لذتیں بھی پاک ہیں اور دنیا تو اس بات کی بھی اہل نہیں ہے کہ یہ معلوم کرے کہ ان کو کیا عطا ہوا ہے۔و مِمَّا رَزَقْتُهُمْ يُنْفِقُونَ فرماتا ہے ان بندوں کی طرف سے خدا کی راہ میں جو خرچ کیا جاتا ہے لازماً یہی وہ رزق ہے جو پاک رزق ہے جس میں دنیا کی کوئی ملونی نہیں اور آپ غور سے دیکھیں تو اس سے زیادہ انسان کی آزادی کا تصور ممکن نہیں ہے جو ان آیات میں پیش کیا گیا ہے۔فرمایا جوشخص ساری دنیا کی طمع سے آزاد ہو جائے اور صرف ایک ذات کے ساتھ اپنی طمع کو منسوب کر دے تو وہی آزاد ہے جو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مرضی سے تابع کر دیتا ہے اور یہی غلامی ایک ایسی غلامی ہے جو ہزار ہا غلامیوں سے نجات بخشتی ہے۔ایسا شخص اس بات پر انحصار نہیں کرتا کہ تیل کی دولت پر اس کا قبضہ ہوتا ہے یا نہیں،