خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 390
خطبات طاہر جلد ۲ 390 خطبہ جمعہ ۲۲؍ جولائی ۱۹۸۳ء نوع انسان کی بھلائی نہیں کیا کرتے بلکہ ہمیشہ فساد بر پا کرتے ہیں۔اس پہلو سے جماعت احمدیہ کلیہ مستثنیٰ ہے کیونکہ جماعت احمد یہ خُلُو کی کوئی خواہش ہی نہیں رکھتی ، وہ صرف اللہ کی رضا کی خواہش رکھتی ہے ، وہ خدا کی حکومت کے قیام کے لئے کوشاں ہے، وہ یہ چاہتی ہے کہ کسی طرح رضوان یار حاصل ہو جائے۔پس ان باتوں پر ان صفات پر اگر آپ پورے صبر اور وفا کے ساتھ قائم رہیں گے تو اللہ تعالیٰ کی یہ خوش خبری ہے کہ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ۔لازماً انجام کا ر آپ فتحیاب ہوں گے اللہ تعالیٰ ہمیں یہ فتح عطا فرمائے۔آمین خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: کل مغرب کی نماز کے بعد مکرم خواجہ عبدالمومن صاحب نے توجہ دلائی کہ اب پھر گرمی بہت بڑھ گئی ہے اور برداشت سے باہر ہوتی جا رہی ہے دوبارہ دعا کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور احباب جماعت کو تلقین کرنی چاہئے۔چنانچہ میں نے ان سے کہا کہ انشاء اللہ تعالیٰ کل خطبہ جمعہ میں تلقین کروں گا لیکن صبح جب بادل دیکھے تو میں متردد گیا۔مجھے خیال آیا کہ اب اگر تلقین کی تو بعض کمزور ایمان والوں کے لئے ٹھوکر کا موجب نہ ہو اور اپنی بے وقوفی اور نادانی سے یہ نہ سمجھنے لگیں کہ جماعت احمد یہ اسی قسم کی دعائیں کرتی ہے بادل دیکھے تو تلقین کر دی اور بعد میں کہہ دیا کہ دعا قبول ہوگئی۔یہ غمور کرتے ہوئے خیال آیا کہ تلقین نہ کی جائے۔پھر خدا نے توجہ اس طرف پھیری کہ یہ بات بھی کامل بجز کے خلاف ہے۔ہزار ہا بادل آئے ہوئے بھی بغیر بر سے چلے جایا کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی رحمت کی ہزار علامتیں بھی ظاہر ہو جائیں تب بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر وہ عمل میں نہیں ڈھلتی اس لئے قطع نظر اس کے کہ کوئی ٹھو کر کھاتا ہے یا نہیں تو اپنے خدا سے اپنے معاملات صاف اور سید ھے رکھو اور بجز کے مقام سے نہ ہٹو۔چنانچہ میں نے ارادہ کیا کہ لازماً تحریک کروں گا۔اس پر مجھے اپنا ایک پرانا واقعہ یاد آ گیا شائد پہلے بھی بتا چکا ہوں لیکن ہے دلچسپ۔ایک دفعہ ہم برف دیکھنے کی نیت سے ڈلہوزی گئے ، ہم چھ سات بچے تھے۔حضرت مصلح موعودؓ نے ایک مربی بطور منتظم ہمارے ساتھ بھیج دیا۔جب ہم جار ہے تھے تو راستہ میں ایک پرانے پہاڑی آدمی نے جو ہمارے ساتھ ہی بس میں بیٹھا ہوا تھا دوران گفتگو کہا کہ آج کل موسم ایسا ہے کہ برف ضرور پڑتی ہے بادل آجائیں سہی ، برف ضرور پڑ جائے گی لیکن اگر