خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 391 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 391

خطبات طاہر جلد ۲ 391 خطبہ جمعہ ۲۲ جولائی ۱۹۸۳ء بادل نہ ہوں تو پھر کچھ نہیں ہو سکتا۔اپنی نادانی میں اور میں سمجھتا ہوں کہ اس نادانی نے ایک بڑا گہرا سبق عطا کیا اس لئے بری نادانی نہیں تھی ، ہم نے یہ دعا کی کہ اے اللہ میاں بادل ! تو بھیج دے برف ہم خود ہی بنالیں گے۔چنانچہ سات دن وہاں ٹھہرے رہے مسلسل بادلوں کے باعث سورج کا منہ نہیں دیکھا۔اولے بر سے مگر برف کا ایک فلیک Flake تک نہیں گرا۔پس اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا تھا کہ یہ بادل اور یہ علامتیں کیا چیز ہیں میرے غلام در ہیں۔میرے تابع فرمان ہیں میں حکم دوں گا تو کچھ کریں گے اس کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔تو اس وقت سے ایک مستقل سبق مجھے حاصل ہوا کہ بندہ کا اصل مقام یہ ہے کہ وہ دعا کرے اور ظاہری علامتوں پر انحصار نہ کرے۔پس ہمیں اب پھر دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ رحم اور فضل کی بارش برسائے اور موسم خصوصاً غربا کے لئے تبدیل کر دے۔امراء کو تو پھر بھی کچھ نہ کچھ سہولتیں حاصل ہوتی ہیں۔یہاں ربوہ میں جو میں نے جائزہ لیا ہے غربا کے مکانوں کی ایسی نا گفتہ بہ حالت ہے کہ بہت ہی خطرناک حالات میں وہ زندگی بسر کر رہے ہیں تو ان کا نام لے کر دعا کریں تو شاید اللہ تعالیٰ فضل فرما دے اور امیروں کو بھی ساتھ ہی فائدہ پہنچ جائے۔(روزنامه الفضل ربوه یکم اگست ۱۹۸۳ء)