خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 388 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 388

خطبات طاہر جلد ۲ 388 خطبہ جمعہ ۲۲؍ جولائی ۱۹۸۳ء دیکھیں۔ہماری دعاؤں کے دورخ ہونے چاہئیں، ایک اپنے لئے اور ایک اپنے غیر کے لئے۔اپنے لئے یہ دعا کہ اے خدا! ہم تیری زمین میں لازماً امن قائم رکھنے کی کوشش کریں گے اور ہر ممکن صبر سے کام لیں گے مگر اے ہمارے آقا! تیرے فضل کے بغیر صبر کی تو فیق کسی کو مل ہی نہیں سکتی۔انسان کی طاقت ہی نہیں کہ محض اپنے ارادے سے کچھ حاصل کر سکے۔آپ میں سے بعض کو شاید یہ خیال آئے یعنی میرے سب مخاطبین میں سے خواہ وہ دنیا میں کہیں بھی ہوں کہ عام طور پر تو دنیا میں یہی تقدیر جاری ہے کہ لوگ جو ارادے کرتے ہیں جو سکیمیں بناتے ہیں وہ دعا بھی نہیں کرتے تو ان کی تدبیروں کو کچھ نہ کچھ پھل ضرور لگتے ہیں مگر جماعت احمدیہ کو کیوں ہر دفعہ تدبیر کے ساتھ دعا کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی جاتی ہے۔یہ اہم سوال ہے جس پر میں کچھ روشنی اپنے دوسرے مضمون سے ہٹ کر ضرور ڈالنا چاہتا ہوں۔میں نے اس پہلو سے اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا بڑی گہری نظر سے مطالعہ کیا ہے اور میں اس قطعی نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ وہ لوگ جو خدا کے مومن بندے ہیں جو خدا کی اپنی جماعت کہلاتے ہیں ان کے ساتھ اللہ کا اور سلوک ہے اور جولوگ دنیا دار ہیں جن کا خدا تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں ان کے ساتھ اور سلوک ہے۔جو خدا تعالیٰ سے تعلق توڑ کر دنیا کے ہو جاتے ہیں ان کے لئے عام قانون جاری ہے۔ان کی کوشش میں اگر حکمت اور محنت شامل ہوتو اسے دنیا کے عام دستور کے مطابق پھل لگتے رہتے ہیں مگر جنہیں خدا تعالیٰ اپنا بنالیتا ہے ان کی توجہ بار بار اپنی طرف مبذول کرانی چاہتا ہے اور انہیں یہ بتانا چاہتا ہے کہ میں تمہارا ہوں اور میرے بغیر تم کچھ بھی نہیں ہو اس لئے اگر وہ دعا نہ کریں تو ان کی عام کوششیں بھی ناکام ہو جایا کرتی ہیں، ایسی کوششیں جو اگر دنیا دار کی ہوں تو پھل دے دیں لیکن اگر مومن خدا سے غافل ہو جائے اور اپنی طاقت پر انحصار کرنے لگے تو پھر خدا تعالیٰ اسے ان کوششوں کے پھل سے محروم کر دے گا پس اس میں آپ کے لئے ایک مستقل سبق ہے۔تاریخ اسلام اور تاریخ احمدیت کے مطالعہ سے بھی یہی سبق ملتا ہے اور اگر آپ روز مرہ زندگی میں اپنے حالات کا گہری نظر سے مطالعہ کریں تو آپ ضرور اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ آپ چونکہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور وہ آپ کا اپنے ساتھ گہرا تعلق دیکھنا چاہتا ہے اس لئے اس نے محض اپنے فضل سے تمہاری عام کوششوں کو اس گہرے رابطہ سے منسلک کر دیا ہے جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا، اگر آپ