خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 380 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 380

خطبات طاہر جلد ۲ 380 خطبہ جمعہ ۱۵ار جولائی ۱۹۸۲ء گزرا ہے تو وہ اپنے نفس کا محاسبہ کر کے خود ہی جائزہ لے اور آئندہ اصلاح کی کوشش کرے۔میں بار بار اس لئے کہہ رہا ہوں کہ دوست خود اپنے نفس کا محاسبہ کریں۔ان کو اس بات کا حق نہیں دیا گیا کہ وہ دوسروں کے متعلق یہ کہنا شروع کر دیں کہ تم اس رمضان سے گزرے ہوا اور پھر بھی ویسے کے ویسے رہے ہو۔اس سے آپ کو بھی نقصان پہنچے گا اور مخاطب کو بھی نقصان پہنچے گا۔آپ کے اندرانا نیت اور تکبر پیدا ہو جائے گا اور وہ یہ سمجھے گا کہ مجھے طعنے دیئے جارہے ہیں نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ پہلے سے بھی برے حال میں چلا جائے گا اس لئے یہ نصیحت کا طریق نہیں ہے۔اس وقت اس منزل پر تو ہر شخص کو خود اپنے نفس میں ڈوب کر اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہئے۔اب جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ یہ نمازیں کیا اثر پیدا کرتی ہے ، مومن کے اندر کیسے دو صفات پیدا ہو جاتی ہیں جو بظاہر اس کی فطرت کے خلاف ہیں لیکن یہ ارتقائی صفات ہیں جو انسانی فطرت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کی گئی ہیں۔ان میں ان صفات کی جڑیں پائی جاتی ہیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے لیکن ایک نیا اور بہتر پھل پیدا ہو جاتا ہے اور ایک نیا وجود گویا ظہور میں آجاتا ہے۔یہ کیسے ہوتا ہے؟ اس کو میں بیان کرنا چاہتا تھا لیکن اگر چہ آج میں گرمی کی وجہ سے خطبہ کو بالکل مختصر کرنا چاہتا تھا پھر بھی بات لمبی ہو گئی ہے۔قرآن کریم کی آیات کے مفہوم کو سمجھانے کے لئے اس لئے تفصیل سے بات کرنی پڑتی ہے کہ بہت سے دوست عربی نہیں جانتے ، وہ قرآن کریم کو پڑھ تو لیتے ہیں لیکن مفہوم نہیں سمجھتے اس لئے ایسے دوستوں کا خیال کر کے ذرا تفصیل سے بات کرنی پڑتی ہے۔بہر حال عبادت کا کیا تعلق ہے ، وہ کیسے انسانی فطرت کی کمزوریوں کو دور کر کے ان کو خو بیوں میں بدل دیتی ہے یہ ہے وہ مضمون جس کے بارہ میں میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں۔یہ کوئی دعوی نہیں ہے بلکہ اس کے اندر ایک گہری حقیقت اور ایک ٹھوس فلسفہ ہے۔ایک ایسا شخص جو خدا کی عبادت کرتا ہے جب اس پر مصیبت نازل ہوتی ہے تو ایک رستہ اس کے لئے کھلا ہے اور وہ ہے دعا کے ذریعہ مصیبت کو دور کرنے کا رستہ۔وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں کلیۂ بے بس اور کمزور انسان ہوں ، میری کوئی پیش جاہی نہیں سکتی اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ معاملہ حد سے اتنا گزر چکا ہے کہ ساری دنیا کے ڈاکٹرز اس مرض کو شفا نہیں بخش سکتے ، ساری دنیا کے مسائل حل کرنے والے میری مصیبت کا کوئی حل تجویز نہیں کر سکتے۔یہ احساس رکھتے ہوئے بھی وہ یہی سمجھتا ہے کہ میرا خدا