خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 377
خطبات طاہر جلد ۲ 377 خطبہ جمعہ ۱۵ر جولائی ۱۹۸۲ء ترک کر دیتا ہے اور خسیس بن جاتا ہے۔وہ یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کی بھلائی میں دوسرے شریک ہو جائیں۔وجہ یہ ہے کہ اس کی پہلی حالت میں جو کیفیت بیان فرمائی گئی اس کی ذمہ داری اس دوسری آیت نے اس کی ذات پر ڈال دی۔یعنی یہ کیسا انسان ہے جس کو دکھ پہنچتا ہے اور وہ دکھ کا احساس بھی کر لیتا ہے اور جانتا ہے کہ دکھ کیا ہوتا ہے۔جب وہ اس دکھ سے نکلتا ہے تو اس کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہئے کہ وہ دوسروں کے دکھ دور کرے، نتیجہ تو یہ نکلنا چاہئے کہ وہ لوگوں کے ساتھ اپنے سکھ بانٹے اور جب بھی کہیں دکھ دیکھے تو وہ بے قرار ہو جائے لیکن یہ نہیں ہوتا بلکہ باوجود اس کہ وہ دکھوں میں صاحب تجر بہ ہو چکا ہوتا ہے، باوجود اس کے کہ وہ جانتا ہے کہ مصیبت کیا ہوتی ہے پھر بھی جب وہ مصیبت سے نکلتا ہے خود غرض بن جاتا ہے اور دوسروں کی پرواہ نہیں کرتا اور قرآن کریم کے مطابق اس کی یہ کیفیت ایک فطری کیفیت ہے یعنی جس طرح ہر قسم کے جانور پیدا کئے گئے ہیں اور وہ یہی حرکتیں کرتے ہیں اس طرح انسان بھی جو مذہب سے نابلد ہو، جس کی مذہب نے تادیب نہ کی ہوا گر اس کو اس عام فطرت پر پاؤ گے تو اسی حالت میں دیکھو گے۔چنانچہ دنیا کی جتنی بھی لامذہب قومیں ہیں ان کی یہی کیفیت بیان ہوئی ہے کیونکہ خدا نے ان کی تادیب نہیں کی کسی مذہب نے انکی تہذیب نہیں کی ، اس لئے ایسی تو میں جب بغیر الہی تعلیم کے عام فطری حالت میں پائی جائیں گی تو حیوانات کے زیادہ قریب ہوں گی یہ حیوانی فطرت ہے جس کا بیان کیا گیا ہے۔وہ اپنے دکھ کے وقت تو خوب شور مچائیں گی اور کہیں گی کہ کون ہوتا ہے دنیا میں ہمیں مصیبت میں ڈالنے والا۔چنانچہ آپ ان میں ایسی انانیت اور تکبر اور نفسانفسی دیکھیں گے کہ جب دکھ پہنچتا ہے تو بے قرار اور مایوس ہو جاتے ہیں لیکن جب بھلائی آتی ہے تو بنی نوع انسان کو بھول جاتے ہیں اور یہ خیال بھی دل میں نہیں آتا کہ دوسرے لوگ بھی ہیں جو بیچارے مصیبت میں مبتلا ہیں کیوں نہ ہم ان کی بھی مصیبتیں دور کریں۔چونکہ ان آیات میں ایک ایسی فطرت کا اظہار کیا گیا ہے جو انسان کی تخلیق میں ودیعت ہے اس لئے ظاہر ہے کہ انسان کا دماغ مایوسی کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، یہاں پہنچ کر اللہ تعالیٰ انسان کو سنبھالتا ہے،اسے اپنا ہاتھ پکڑا تا ہے، دست نصرت عطا کرتا ہے اور فرماتا ہے مایوسی کی کوئی وجہ نہیں إِلَّا الْمُصَلِّينَ الَّذِينَ نماز پڑھنے والے ، عبادت کرنے والے مستقلی ہیں۔ان کی فطرتوں میں تبدیلیاں پیدا کی جاتی ہیں، ان کو نئے رنگ عطا ہوتے ہیں اور وہ برائیوں میں مبتلا نہیں ہوتے۔جو