خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 376
خطبات طاہر جلد ۲ 376 خطبہ جمعہ ۱۵ار جولائی ۱۹۸۲ء بلکہ تمہیں حقیقت سے آگاہ کرنے کے بعد اور سچائی پر قائم کرنے کے بعد ابدی نجات کی راہ دکھانے کے لئے یہ باتیں بتا رہے ہیں۔ہم تمہیں یہ بتاتے ہیں کہ کن باتوں سے بچنا ہے اور کس طرح بچنا ہے اور ہمیشہ کی فلاح کیسے پانی ہے۔یہ راز ہے جو ہم تمہیں بتارہے ہیں۔یہ ہے قرآن کریم کی تذکیر کا انداز جو مختلف مواقع پر اختیار کیا گیا ہے لیکن اس کی بنیادی صفات وہی رہتی ہیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے۔سورۃ المعارج کی یہ آیات جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں ان میں پہلی دو آیات میں تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے دل دہلا دینے والی بات کی گئی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسان کو اس کی حقیقت بتا کر یہ بتایا گیا ہے کہ تم تو کسی کام کی چیز نہیں ہو، تمہاری تو فطرت کے اندر بعض کجیاں موجود ہیں ، تمہاری تخلیق اور بناوٹ میں بعض کمزوریاں پائی جاتی ہیں پھر بھی تم بڑے بڑے بول بولو اور اپنی ذات پر بنا کرتے ہوئے کسی ترقی کے خواب دیکھو تو یہ محض جھوٹ ہے، فرمایا انَّ الْإِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعا انسان تو پیدا ہی ایسی حالت میں کیا گیا ہے کہ وہ بے صبرا بھی ہے گھڑ دِلا اور کم حوصلہ بھی ہے۔یعنی اس کی تخلیق ہی ایسی ہے اور اس کے شھر، دلا ہونے اس کے کم حوصلہ ہونے اور اس کے بے صبرا ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُ و عاجب اسے کوئی شر پہنچتا ہے ، کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو خوب شور ڈالتا ہے اور واویلا کرتا ہے اور مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔وہ یوں محسوس کرتا ہے کہ جیسے اس اندھیرے سے کبھی نکل ہی نہیں سکوں گا اس لئے بے انتہا بے قراری کا اظہار کرتا ے۔وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا لیکن جب اسے کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو وہ کنجوس بن جاتا ہے اور دوسروں تک اپنی بھلائی کو پہنچانے کا خیال بھی دل میں نہیں لاتا اور خود غرضی دکھاتا ہے۔انسانی فطرت کی ان دو صفات میں قابل توجہ بات یہ ہے کہ شر کے نتیجہ میں جزُ دُعا کے بعد خیر کے نتیجہ میں منوعا کی صفت کیوں رکھی گئی یعنی یہ کیوں فرمایا گیا کہ جب اسے شر پہنچتا ہے تو بے چین اور بے قرار ہو جاتا ہے اور واویلا کرنے لگ جاتا ہے۔اس کے بعد بظاہر تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ جب اس کو خیر پہنچتی ہے تو پھر بڑی تسکین اور اپنے آپ کو امن میں سمجھتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ اب آئندہ مجھے کوئی شر پہنچے گا ہی نہیں۔ایک اور موقع پر قرآن کریم نے یہ طرز بھی اختیار فرمائی ہے لیکن یہاں عملاً اس طرز کو بدل کر ایک اور رنگ میں بات کی گئی ہے۔پس سوال یہ ہے کہ خیر کے ساتھ مَنُوعًا کا ذکر کیوں کیا گیا اس لئے کہ مَنُوعًا کا مطلب ہے کہ اپنی خیر دوسروں تک پہنچانے کا خیال