خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 370
خطبات طاہر جلد ۲ 370 خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۸۳ء اس میں کی ضمیر کتاب کی طرف بھی چلی جاتی ہے اور عبد کی طرف بھی چلی جاتی ہے اور یہ مراد نہیں ہے کہ یا عبد کی طرف جائے گی یا کتاب کی طرف بلکہ اس آزادی سے مراد یہ ہے کہ دونوں کی طرف جائے گی اور برابر چسپاں ہوگی۔پس لیلتہ القدر میں بھی اَنْزَلْنَہ سے ایک مراد حضرت محمد مصطفی ملے ہیں، گویا وہ غموں اور دکھوں کی رات جس میں ایک ایسا وجود با برکت نازل ہوا جس نے عموں اور دکھوں کی رات کو رحمتوں اور برکتوں کی رات میں تبدیل کر دیا۔ایسا حیرت انگیز انقلاب برپا کیا کہ اندھیرے روشنیوں میں بدلنے لگے، مصیبتیں اور خطرات سلامتی میں تبدیل ہونے لگے اور یہ سارے واقعات اللہ کے حکم سے ہو رہے تھے۔ایک ذرہ بھی اس میں اس وجود کی اپنی ذاتی خواہش کا نہیں تھا مسلسل اللہ کی رحمت اللہ کے حکموں سے نازل ہو رہی تھی ، خدا کی سلامتی اس کی طرف سے آ رہی تھی ذریعہ بن گیا یہ سورج جو روشنی کا سورج ہے۔پس لیلتہ القدر کے متعلق اگر چہ ہم نہیں جانتے کہ اس مہینہ کی لیلۃ القدر آکر گزر بھی چکی ہے یا ابھی آنے والی ہے۔اور ہم یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ کیا ہر ایک کو ایک ہی رات میں لیلۃ القدر نصیب ہوتی ہے یا بعض اوقات بعضوں کو مختلف راتوں میں لیلۃ القدر نصیب ہو جاتی ہے۔یہ مضمون بڑا تحقیق طلب ہے اور جتنی تحقیق بھی کی جائے قطعی جواب پھر بھی نہیں ملتا اس لئے کوشش آخر وقت تک رہتی ہے اور اس آزادی میں بھی ایک عجیب لطف ہے۔غیر معین رات کی تلاش میں جو لطف ہے وہ معین رات کی تلاش میں نہیں ہوسکتا۔اپنی برکتوں کے لحاظ سے ایک رات دس راتوں میں تبدیل ہو گئی ہے۔وہ جن کو تلاش ہے ان کو یہ بھی پتہ نہیں کہ شاید گز رہی چکی ہو اس لئے گزرنے کے بعد کی راتیں بھی ان کی اللہ کے ذکر سے زندہ ہو جاتی ہیں اور بعض اوقات وہ بعد میں آنے والی رات بھی ان کے لئے لیلۃ القدر بن جاتی ہے اس لئے لیلۃ القدر کا مضمون تو ابھی جاری ہے۔آج کے جمعہ کو عام برکتوں کے علاوہ یہ برکت بھی ملی ہوئی ہے کہ یہ دو ایسے دنوں کے درمیان ہے جن کی راتیں لوگوں کی عام توقعات اور روایات کے مطابق لیلۃ القدر ہونے کا زیادہ امکان رکھتی ہیں۔یعنی پچیس اور ستائیس کی راتیں اور چھبیس عین بیچ میں واقع ہے اس لئے اس جمعہ کی برکتیں ان دونوں راتوں سے بھی شامل ہو جائیں گی جو ان کے دائیں بائیں کھڑی ہیں۔تو دعاؤں کا وقت ابھی گزر کرختم نہیں ہوا۔ویسے تو دعاؤں کے وقت کبھی بھی ختم نہیں ہوتے۔حقیقت میں ساری