خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 369 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 369

خطبات طاہر جلد ۲ 369 خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۸۳ء لیکن میں ان کو بھی بتاتا ہوں کہ یہ جو بچے دل اور بچے پیار کے ساتھ اللہ کی رحمتوں کے متلاشی ہوتے ہیں اور پاک لمحات کو گہرے دکھ کے ساتھ رخصت کرتے ہیں، جن کا ہجر سب سے زیادہ نیکیوں کا ہجر ہوتا ہے، جو بدیوں کے لئے ہجر محسوس نہیں کرتے ان کو اللہ تعالیٰ ایک وصل دوام عطا کیا کرتا ہے ان کو اللہ تعالیٰ ایک ایسی رحمت عطا فرماتا ہے جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہتی ہے اور ان سے جدائی نہیں اختیار کرتی۔اس لئے وہ آج کے بعد جتنی راتیں بھی اٹھیں گے وہ اللہ کی رحمت کو اپنے قریب ہی پائیں گے۔یہ جمعہ رحمتیں دینے آیا ہے رحمتیں لے جانے کے لئے نہیں آیا۔یہ برکتیں عطا کرنے تو آیا ہے برکتیں لے جانے کے لئے نہیں آیا اس لئے بے فکر اور بے غم ہو کر اس جمعہ سے گزریں۔ان کا ہر جمعہ جمعتہ الوداع کی طرح مبارک ہو جائے گا، ان کی ہر رات شب برات بن جائے گی، اگر وہ اسی طرح محبت اخلاص اور پیار کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھکتے رہیں اور دعائیں کرتے رہیں۔میں نے آج کے موضوع کے لئے لیلۃ القدر کی آیات کا انتخاب کیا تھا اور ان کا گہرا تعلق جو الله حضرت محمد مصطفی عملے کے وجود باجود سے ہے اس مضمون کو بیان کرنا تھا۔تبرکا میں نے یہ آیات تلاوت تو کر دیں لیکن مجھے پہلے ہی یہ احساس تھا کہ وقت اتنا تھوڑا ہے کہ ناممکن ہے کہ ان آیات کی تفسیر کا حق ادا کیا جا سکے۔یہ حق ادا کرنا تو ایک انسانی محاورہ ہے۔امر واقعہ تو یہ ہے کہ وقت تھوڑا ہو یا زیادہ ہو، انسان عرفان کے کسی بھی مقام پر پہنچا ہوا ہو قرآن کریم کی کسی ایک آیت کی تفسیر کا بھی حق ادا نہیں ہو سکتا تو میں نے حق ادا کرنے کا لفظ عام انسانی محاورے میں استعمال کیا ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کچھ نہ کچھ اس کے متعلق اتنا تو کہہ سکے کہ سننے والوں کو کچھ سمجھ آ جائے کہ یہ کیا بات ہو رہی ہے۔اس کے لئے تو ایک جمعہ بھی کافی نہیں، دو تین جمعے بھی تھوڑے محسوس ہوتے ہیں لیکن ایک بہت ہی اہم اور بنیادی نکتہ میں آج آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ لیلۃ القدر میں إِنَّا أَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ میں ، کو یعنی اس ضمیر کو جو آزاد چھوڑ دیا گیا اور انا انزلنا القران فی لیلة القدر نہیں فرمایا۔یہ قرآن کریم کا خاص اسلوب ہے اور جہاں حضرت محمد مصطفی علیہ اور قرآن کریم دونوں کی باتیں یکجا کرنا چاہتا ہے وہاں ہمیشہ قرآن کریم یہی اسلوب اختیار فرماتا ہے۔جیسا کہ فرمایا: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَى عَبْدِهِ الْكِتَبَ وَلَمْ يَجْعَل لَّهُ عِوَجًان (الكهف:۲)