خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 368
خطبات طاہر جلد ۲ 368 خطبہ جمعہ ۸؍ جولائی ۱۹۸۳ء کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اس رمضان کو اس طرح کمایا کہ راتوں کو اٹھ کر خدا کے حضور گریہ وزاری کی اور سجدہ گاہوں کو آنسووں سے تر کر دیا اور ان کے شور اور اضطراب اور آہ و بکا کی آواز میں خدا تعالیٰ کی راہ میں بلند ہوئیں اور بعض دفعہ اس شدت کے ساتھ بلند ہوئیں کہ تمام ماحول تک وہ آوازیں پہنچیں۔ابھی چند دن پہلے ایک رات میری چھوٹی بچی گھبرا کر مجھ سے پوچھنے گی کہ اب یہ کیا ہوگیا ہے، اس قدر رونے کی آوازیں آرہی ہیں، یہ کیا قیامت ٹوٹی ہے۔لفظ قیامت تو اس نے استعمال نہیں کیا لیکن چہرے پر ایسا خوف تھا کہ خدا جانے یہ کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے کہ اس طرح لگتا ہے سارار بوہ رورہا ہے۔میں نے اسے بڑے پیار سے سمجھایا کہ بیٹی اللہ کی رحمت نازل ہورہی ہے، یہ اللہ کے بندے ہیں جو اپنی گریہ وزاری کے ساتھ اسکے عرش کو ہلا دیں گے۔تمہیں جس قوت اور جس زور کے ساتھ یہ آواز سنائی دے رہی ہے اس سے بہت زیادہ زور کے ساتھ آسمان کے ملکوتی وجودوں کو یہ آواز سنائی دے رہی ہے، پھر اس سے بہت زیادہ عظمت اور شدت کے ساتھ اللہ کی رحمت کو یہ آواز سنائی دے رہی ہے اس لئے یہ تو روحانی انقلاب پیدا ہونے کے سامان ہیں تم گھبراؤ نہیں ، آؤ میں تمہیں باہر لے جا کر دکھا تا ہوں کہ یہ کیسی آوازیں ہیں۔میرے ساتھ وہ باہر نکلی اور اس پر عجیب روحانی کیفیت طاری ہوگئی۔اس نے کہا ابا یہ اللہ میاں کے سامنے رور ہے ہیں؟ میں نے کہا، ہاں سب اللہ میاں کے سامنے رور ہے ہیں۔پس رمضان رونے والوں کو ایسی لذتیں بخش گیا ہے کہ باہر والے اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے ، چنانچہ وہ جنہوں نے خشک دل خشک نگاہوں اور دنیا کے خوفوں کے ساتھ یہ وقت گزارا ہے ان کو کیا پتہ کہ رمضان کیسی کیسی برکتیں اور لذتیں لے کر آیا اور ایسی روحانی کیفیتیں پیچھے چھوڑ گیا ہے کہ وہ سارا سال انسانی وجود کو لذت سے بھرا رکھیں گی اس لئے ان کے لئے یہ وداع کا جمعہ ایک بہت ہی درد ناک جمعہ بن جاتا ہے۔کئی ان میں سے سوچتے ہوں گے کہ ہم بیمار ہیں خدا جانے اگلا سال ہم پر ایسا آتا ہے کہ نہیں کہ دوبارہ ہم اللہ تعالیٰ سے یہ برکتیں حاصل کر سکیں ، دوبارہ خدا کے حضور گریہ وزاری کر سکیں۔کچھ بوڑھے ہیں ان کو علم نہیں لیکن جوانوں کو بھی کب علم ہے۔اللہ کی تقدیر کا تو کسی کوعلم نہیں کہ کون کس زمین پر کس وقت اٹھایا جائے ، سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا، اس لئے ہر وہ شخص جو نیکی کا طالب ہے جو اللہ کے حضور گریہ وزاری کے ساتھ حاضر ہونے کی تمنار کھتا ہے اس کے لئے یہ جمعہ ایک دردناک وداع کا جمعہ ہے۔