خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 31
خطبات طاہر جلد ۲ 31 خطبه جمعه ۱۴ جنوری ۱۹۸۳ء سے بھی منہ موڑو گے تو اس حصہ میں زندگی پر موت کو ترجیح دینے والے ہو گے۔ موت کے بھی مختلف دائرے ہوتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہو گا یہ ضروری نہیں کہ انسانی جسم یک لخت مر جائے ۔ بعض لوگوں کی انگلی مر جاتی ہے، بعض کا صرف ناخن مرتا ہے، بعض کا باز وثل ہو جاتا ہے اور ٹکڑا ٹکڑا موت بھی آتی ہے۔ بعض اعضا مر جاتے ہیں آنکھ مر جاتی ہے ، بعض دفعہ آنکھ کا پردہ مر جاتا ہے یا آنکھ کی ایک رگ مرجاتی ہے۔ پس یہ ضروری نہیں کہ موت کامل طور پر آئے ۔ جس حصہ میں بھی زندگی کے تقاضوں سے اجتناب کیا جائے گا اس حصہ کو موت پکڑ لے گی۔ یہ قانون ہے اور اس آیت نے ہمیں یہ بتایا کہ چونکہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی نصیحت کا تمام تر مقصد یہ ہے کہ وہ تمہیں زندگی بخشیں اس لئے اگر تم حضور اکرم ا کے کسی فرمان سے اجتناب کرو گے تو اگر وہ چھوٹا ہو گا تو چھوٹی موت قبول کر رہے ہو رم علي گے اور اگر بڑا ہو گا تو بڑی موت قبول کر رہے ہو گے لیکن اس سے کوئی مفر نہیں ہے کہ تم اپنے لئے موت کو چن رہے ہو اور زندگی کو چھوڑ رہے ہو۔ صلى الله پھر جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ عقوبت سے بچ جائیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ عقوبت سے بچنے کے دو قسم کے امکانات انسان کے لئے پیدا ہوتے ہیں اور اس چھوٹی سی آیت میں ان دونوں کا ذکر فرما دیا گیا۔ أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِہ میں ایک پہلو سے بحث فرمائی گئی وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ میں دوسرے پہلو سے بحث اٹھائی گئی ۔ مجرم کو اگر یہ یقین ہو جائے کہ میں پکڑا نہیں جاؤں گا یا غالب گمان یہ ہو کہ جیسا کہ اکثر مجرموں کو ہوتا ہے کہ وہ عقوبت سے بچ جائیں گے کیونکہ میری بات کسی کے علم میں نہیں آئے گی تو ایسا مجرم بھی نصیحت کو رد کر دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے تم بے شک نیکی کی نصیحت کرتے رہو مجھے بدی اختیار کرنے سے فرق کیا پڑتا ہے۔ میں ایسی چالاکی کے ساتھ کروں گا کہ میری بدی کا تو کسی کو پتہ ہی نہیں لگے گا اور کسی کو خبر تک نہ ہوگی ۔ اس لئے تمہاری نصیحت تو ان بیوقوفوں کے لئے ہے جو پکڑے جاتے ہیں۔ میں تو پکڑے جانے سے آزاد ہوں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا کے نام پر تمہیں جو نصیحت حضرت محمد مصطفی ا کر رہے ہیں وہاں تمہارے لئے اس بے خوفی کا کوئی موقع نہیں ۔ أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهِ الله تعالیٰ انسان کے جسم اور روح کے درمیان حائل ہے۔ جو باتیں بھی انسان کے قلب میں یعنی اس کی روح میں پرورش پاتی ہیں اور جن باریکیوں کے صلى عروسة