خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 31 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 31

خطبات طاہر جلد ۲ 31 خطبه جمعه ۱۴/جنوری ۱۹۸۳ء سے بھی منہ موڑو گے تو اس حصہ میں زندگی پر موت کو ترجیح دینے والے ہو گے۔موت کے بھی مختلف دائرے ہوتے ہیں۔آپ نے دیکھا ہوگا یہ ضروری نہیں کہ انسانی جسم یک لخت مرجائے۔بعض لوگوں کی انگلی مرجاتی ہے ، بعض کا صرف ناخن مرتا ہے، بعض کا بازو شل ہو جاتا ہے اور ٹکڑ اٹکڑا موت بھی آتی ہے۔بعض اعضا مر جاتے ہیں آنکھ مرجاتی ہے ، بعض دفعہ آنکھ کا پردہ مر جاتا ہے یا آنکھ کی ایک رگ مرجاتی ہے۔پس یہ ضروری نہیں کہ موت کامل طور پر آئے۔جس حصہ میں بھی زندگی کے تقاضوں سے اجتناب کیا جائے گا اس حصہ کو موت پکڑلے گی۔یہ قانون ہے اور اس آیت نے ہمیں یہ بتایا کہ چونکہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کی نصیحت کا تمام تر مقصد یہ ہے کہ وہ تمہیں زندگی بخشیں اس لئے اگر تم حضور اکرم ﷺ کے کسی فرمان سے اجتناب کرو گے تو اگر وہ چھوٹا ہوگا تو چھوٹی موت قبول کر رہے ہو گے اور اگر بڑا ہو گا تو بڑی موت قبول کر رہے ہو گے لیکن اس سے کوئی مفر نہیں ہے کہ تم اپنے لئے موت کو چن رہے ہو اور زندگی کو چھوڑ رہے ہو۔پھر جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ عقوبت سے بچ جائیں گے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ عقوبت سے بچنے کے دو قسم کے امکانات انسان کے لئے پیدا ہوتے ہیں اور اس چھوٹی سی آیت میں ان دونوں کا ذکر فرما دیا گیا۔اَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ میں ایک پہلو سے بحث فرمائی گئی وَاَنَّةَ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ میں دوسرے پہلو سے بحث اٹھائی گئی۔مجرم کو اگر یہ یقین ہو جائے کہ میں پکڑا نہیں جاؤں گا یا غالب گمان یہ ہو کہ جیسا کہ اکثر مجرموں کو ہوتا ہے کہ وہ عقوبت سے بچ جائیں گے کیونکہ میری بات کسی کے علم میں نہیں آئے گی تو ایسا مجرم بھی نصیحت کو رد کر دیتا ہے۔وہ کہتا ہے تم بے شک نیکی کی نصیحت کرتے رہو مجھے بدی اختیار کرنے سے فرق کیا پڑتا ہے۔میں ایسی چالا کی کے ساتھ کروں گا کہ میری بدی کا تو کسی کو پتہ ہی نہیں لگے گا اور کسی کو خبر تک نہ ہوگی۔اس لئے تمہاری نصیحت تو ان بیوقوفوں کے لئے ہے جو پکڑے جاتے ہیں۔میں تو پکڑے جانے سے آزاد ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا کے نام پر تمہیں جو نصیحت حضرت محمد مصطفی علیہ کر رہے ہیں وہاں تمہارے لئے اس بے خوفی کا کوئی موقع نہیں۔میں کا۔اَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ الله تعالیٰ انسان کے جسم اور روح کے درمیان حائل ہے۔جو باتیں بھی انسان کے قلب میں یعنی اس کی روح میں پرورش پاتی ہیں اور جن باریکیوں کے