خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 30
خطبات طاہر جلد ۲ 30 30 خطبه جمعه ۱۴/جنوری ۱۹۸۳ء ملیا میٹ کر دیا جائے گا۔پس اس وجہ سے کہ لوگ زیادہ گندے ہو گئے ہیں تم اگر گندگی کو اختیار کر رہے ہو تو یہ تمہاری بڑی بیوقوفی ہے۔چنانچہ اس جذبہ کا بھی خوب تجزیہ کر کے انسانی کپڑے سے صاف اور پاک کر دیا تا کہ اللہ کے بہتر رنگ اختیار کرنے کے وہ قابل ہو سکے۔پھر ایک اور وجہ ناصح پر عدم اعتماد ہوتا ہے۔بعض دفعہ مقصد پر عدم اعتماد ہوتا ہے۔یعنی کہنے والے پر اعتماد نہیں کہ وہ ہے کیسا لہذا اسکی طرف سے جو نصیحت آتی ہے وہ نصیحت ہی مشکوک ہو جاتی ہے۔پھر بعض دفعہ کہنے والا اچھا بھی ہو تو جس مقصد کی طرف بلا رہا ہے وہ مقصد بعض دفعہ اچھا نہیں ہوتا۔چنانچہ کہنے والے کی نصیحت وہاں بھی بے کار چلی جاتی ہے۔پھر بعض دفعہ انسان سمجھتا ہے کہ ٹھیک ہے دونوں باتیں ٹھیک ہیں لیکن میں نہ بھی مانگوں گا تو کیا فرق پڑ جائے گا۔میں نے کون سا پکڑے جانا ہے۔ان تینوں چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُوْلِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّةَ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ (الانفال: ۲۵) کہ اے لوگو! اللہ اور رسول کی بات پر لبیک کہو کیونکہ اللہ اور محمد مصطفی ﷺ سے بہتر نصیحت کرنے والا تمہیں اور کوئی نہیں مل سکتا۔اللہ وہ ہے جو تمام حکمتوں کا سر چشمہ ہے ، ہر اچھی بات اس کی ذات سے پھوٹتی ہے، اسکی ذات پر بدظنی کا تو تمہیں کوئی حق نہیں اور محمد مصطفی ہے اس لئے کہ اللہ کے رنگ اس شخص سے بہتر کسی نے اختیار نہیں کئے اور اس کمال کے ساتھ کسی نے اختیار نہیں کئے جس طرح محمد مصطفی ﷺ نے اختیار کر لئے ہیں۔پس جہاں تک نصیحت کرنے والے کا تعلق ہے اس سے بہتر اور کوئی نہیں ہوسکتا، پھر کیوں پیٹھ پھیر کر بھاگ رہے ہو۔جہاں تک مدعا اور مقصود کا تعلق ہے فرمایا لِمَا يُحْيِكُم یہ تو تمہیں موت سے زندگی کی طرف بلا رہا ہے نصیحت کا اس سے بہتر مقصد اور کیا ہوسکتا ہے۔اس چھوٹی سی بات میں آنحضرت ﷺ کی تمام نصائح کے مقصود کو بیان فرما دیا۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ باقی باتیں تو ٹھیک ہیں لیکن یہ باتیں ذرا ٹھیک نہیں یہ ہمارے لئے مناسب نہیں ہیں یا نہ بھی کریں تو فرق نہیں پڑتا۔یہ آیت بتا رہی ہے کہ اگر تم حضرت محمد مصطفی مے کی کسی ایک بات