خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 361 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 361

خطبات طاہر جلد ۲ 361 خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۸۳ء تو یہ بھی کوئی فرضی فلسفہ کی بات نہ تھی۔مراد یہ تھی کہ ہم نے گویا اور زیادہ صفات باری کو اختیار کر لیا۔ہمارے اندر پہلے سے بڑھ کر مقبولوں کی علامتیں ظاہر ہو گئیں۔پس اس رمضان کے مبارک مہینے میں دوست بہت دعائیں کریں اور پھر سارا سال کوشش کریں کہ مقبولوں کی علامتیں ہمارے اندر نشو و نما پاتی اور بڑھتی رہیں یہاں تک کہ جماعت پر ایک عظیم الشان روحانی بہار آجائے جس کے بعد اس کا بڑھنا مسلسل جاری رہے اور کسی کی طاقت میں نہ رہے کہ وہ اس کو روک سکے۔دنیا کے لئے یہ ناممکن ہو جائے کہ وہ تمہاری راہ میں حائل ہو سکے اور وہ اسی طرح ناممکن بنے گا کہ تم خدا والے ہو جاؤ اور خدا کے پیار کی علامتیں تمہارے اندر ظاہر ہوں۔خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: پچھلے چند دنوں سے گرمی بہت زیادہ ہوگئی ہے۔ویسے تو مومن کا کام ہے کہ اللہ کی رضا پر راضی رہے جو بھی ہے ٹھیک ہے۔ہر ابتلا پر راضی ہونا ہی مومن کے لئے جنت ہے لیکن ساتھ یہ بھی حکم ہے کہ ہر ضرورت کے لئے مجھ سے دعائیں مانگو۔ادنیٰ تکلیف کے لئے بھی مجھ سے دعائیں مانگو، یہ بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کا ایک حصہ ہے، یہ بھی اس کی تقدیر کا ایک حصہ ہے اس لئے ہم ہر تقدیر پر راضی ہیں اور اس محبت اور پیار کی تقدیر کا بھی مطالبہ کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں اس نے ہمیں ہر تکلیف دور ہونے کی دعا بھی سکھا دی۔ایک طرف فرمایا میری ہر رضا اور میری ہر تقدیر پر راضی ہو جاؤ اور ساتھ یہ بھی فرما دیا کہ چھوٹی سے چھوٹی مشکل میں بھی مجھ سے دعا کرو کہ میں تمہاری مشکل دور کروں۔پس ہمارے لئے جنت ہی جنت ہے۔کچھ جنتیں ذرا ظاہری جسمانی مشقت سے ملتی ہیں کچھ آسانی سے مل جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم مجھ سے آسانی کی جنتیں بھی مانگا کرو اس لئے ایک صاحب نے ابھی مجھے خطبہ سے پہلے کہا تھا کہ دعا کی تحریک کروں کہ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور بارش بھیجے۔بارش کی دعا نہیں کرنی چاہئے کیونکہ بعض دفعہ بارش اتنی شدید گرمی اور مصیبت لے کر آتی ہے کہ انسان کا پہلے سے بھی برا حال ہو جاتا ہے۔ابھی تو آپ کو پت نہیں نکل رہی ، پسینے ٹھنڈ پیدا کر رہے ہیں، درختوں کے سائے ٹھنڈے ہیں، کمروں کی چھتوں کے نیچے کچھ آرام ہے اگر بھڑاس والی بارش ہو جائے کہ وہ گرمی کی جان نہ مار سکے لیکن نمی پیدا کر جائے تو یہ تو بڑی خطرناک دعا ہو گی اس لئے فضل اور رحمت کی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جس شکل میں بھی ہمارے لئے بہتر ہے فضل اور رحمت لے