خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 351
خطبات طاہر جلد ۲ 351 خطبہ جمعہ یکم جولائی ۱۹۸۳ء اور پھر فرمایا: اللہ کے پیاروں کی علامتیں پیدا کریں (خطبہ جمعہ فرموده یکم جولائی ۱۹۸۳ بمقام مسجد اقصی ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے یہ آیہ کریمہ تلاوت فرمائی: اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ (تم اسجدة : ٣١) گزشتہ خطبہ میں میں نے جماعت کو یہ یقین دلایا تھا کہ وہ جو اللہ کے دوست ہوتے ہیں اور اللہ جن کا دوست ہوتا ہے ان کو کسی قسم کا کوئی خوف اور کوئی حزن نہیں ہوتا۔اس مضمون پر غور کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے میری توجہ ایک اور نکتے کی طرف مبذول کروائی اور وہ یہ ہے کہ خدا کے بندے، اس سے پیار کرنے والے اور جن سے اللہ پیار کرتا ہے وہ بے خوف کیوں ہوتے ہیں۔دنیا میں جتنے بھی خوفزدہ لوگ ہیں خواہ افراد ہوں یا قو میں ہوں ان کے خوف میں ایک نمایاں عصر جرم کا شامل ہوتا ہے جس کی وجہ سے بنی نوع انسان کی بھاری تعداد خائف رہتی ہے۔چنانچہ بعض قو میں بھی اپنے جرموں کی وجہ سے خائف ہیں، افراد بھی اپنے جرموں کی وجہ سے خائف ہیں اور یہ نفسیات کا ایک گہرا نکتہ ہے جسے مختلف فلسفہ دانوں نے بھی بیان کیا اور دنیا کی