خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 343 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 343

خطبات طاہر جلد ۲ 343 خطبه جمعه ۲۴ / جون ۱۹۸۳ء جب ہم امن سے بدلتے ہیں تو کچھ لوگ تو ایسے ہوتے ہیں جن کی تمنا ئیں میری راہ میں اپنی جان اور مال فدا کرنے کی پوری ہو چکی ہوتی ہیں اور کچھ کی حسرتیں باقی رہ جاتی ہیں۔وہ اس بات پر خوش نہیں ہوتے کہ خوف کے حالات بدل چکے ہیں، ہماری جانیں بچ گئیں اور ہمارے اموال بچ گئے بلکہ ایسے فدائی اور ایسے عاشق خدا کی راہ میں ایسے دیوانے ہو چکے ہوتے ہیں کہ وہ دلوں میں حسرتیں پالتے رہتے ہیں کہ بہت اچھا اب نہیں تو آئندہ سہی۔چنانچہ تاریخ اسلام سے ثابت ہے کہ جنگ بدر میں شامل نہ ہو سکنے والوں میں سے کچھ ایسے تھے جو دعاؤں کی درخواستیں کیا کرتے تھے۔دن رات یہ ذکر کیا کرتے تھے کہ وائے حسرت ! ہم شامل نہیں ہوئے۔اگلی دفعہ جب جہاد ہوگا تو پھر ہم دیکھیں گے، پھر ہم حسرتیں نکالیں گے اور پھر واقعہ ایسا ہوا کہ ان کے جسموں کے ٹکڑے اڑا دیئے گئے۔خدا کی راہ میں انہوں نے ایسے ایسے زخم کھائے کہ وہ پہچانے نہیں جاتے تھے ( صحیح بخاری کتاب المغازی باب غزوة احد الاصابة في تميز الصحابه تحت ذکر انس بن نظر۔جلدا : صفہ ۱۳۲)۔ایسے لوگوں کے متعلق یہ کہنا کہ ان کو کوئی خوف ڈرا سکتا ہے یا وہ کسی حزن کا شکار ہو سکتے ہیں ، بہت ہی بڑا پاگل پن ہے۔پس خدا تعالیٰ اس حقیقت سے انکار نہیں کر رہا کہ یہ لوگ خوف کے حالات میں سے نہیں گزریں گے یا ان کے لئے حزن کے حالات پیدا نہیں ہوں گے بلکہ یہ فرماتا ہے کہ دنیا کی نظر میں جس کو خوف کہا جاتا ہے، دنیا کی نظر میں جس کو حزن سمجھا جاتا ہے ان دونوں چیزوں سے میرے یہ بندے پاک اور بالا ہیں خوف کے ہاتھ ان تک نہیں پہنچ سکتے۔اٹھیں گے ضرور لیکن کو تاہ رہ جائیں گے اور ان تک ان کو دسترس نہیں ہوگی۔حزن ان کے دلوں پر قبضہ نہیں جما سکے گا کیونکہ ان کے غموں میں ان کی لذتیں ہیں اور وہ غم جو لذت پیدا کرے وہ دنیا کی کسی بھی اصطلاح میں غم نہیں کہلا سکتا۔غم کا لذت سے کیا تعلق؟ لیکن عاشق کے غم کا لذت سے تعلق ہوتا ہے۔چنانچہ شاعری میں آپ کو ایسے غم ملتے ہیں جن کی لذتوں کا شاعر اپنی زبان سے بے انتہا کر کرتا ہے کہ کاش! ہمیں اور بھی ایسے غم ملیں۔ے تو مشق ناز کرخون دو عالم میری گردن پر (دیوان غالب) تو غم پہنچاتا چلا جا، چر کے لگاتا چلا جا ہم عشاق تو ایسے ہیں کہ ہر دکھ پر ہر چھ کے پر جو تیری