خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 344
خطبات طاہر جلد ۲ 344 خطبه جمعه ۲۴ / جون ۱۹۸۳ء طرف سے لگایا جاتا ہے لذت محسوس کرتے ہیں۔پس یہ عاشق کی دنیا ہے اور خدا تعالیٰ اس عشق کی دنیا کا ذکر فرما رہا ہے جب فرماتا ہے إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ دنیا والو! تم بڑے بے وقوف ہو کہ اللہ سے محبت کرنے والوں کو ڈراتے ہو۔وہ جو خدا کے عشق میں سب سودے کر چکے ہیں،سب کچھ بیچ بیٹھے ہیں ان کو ڈرا ر ہے ہو کہ تمہارے عہد و پیمان کے پورا کرنے کے ہم سامان کریں گے فَمِنْهُمْ من تم پہلے بھی دیکھ چکے ہو کہ جب خوف کے حالات پیدا ہوئے تو انہوں نے بڑی جرات اور حوصلہ کے ساتھ خدا کی راہ میں قربانیاں پیش کیں اور انہی میں سے بچے ہوئے یہ منتظر بیٹھے ہیں ان پر تمہارے خوف کی آواز کیا اثر کر سکتی ہے؟ وہ خائب و خاسر ہو کر تمہاری طرف واپس لوٹ جائے گی اور میرے محبوب بندوں پر مجھ سے محبت کرنے والوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔پس ولایت کا ایک یہ پہلو ہے یعنی عشق کا پہلو ہے۔عاشق کی نظر سے جب ولایت کو دیکھا جاتا ہے تو اس طرح خوف اور حزن کو دور کیا جاتا ہے۔ولایت کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب محبوب اپنے عاشق کا عاشق بنتا ہے اور اس کے لئے بے قرار اور بے چین ہوتا ہے تو وہ ہرگز یہ پسند نہیں کرتا کہ دشمن اور ظالم لوگ اس کے محبوب کو مٹا ڈالیں۔اپنے پیار کے اظہار کے لئے وہ کچھ آزمائش میں تو ضرور ڈالتا ہے اور موقع دیتا ہے کہ دوسرے بھی اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھیں کہ میری راہ میں ، میری محبت میں فدا ہونا کس کو کہتے ہیں۔مگر یہ صرف عاشقی کی رمزیں ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں ورنہ وہ محبوب ہرگز پسند نہیں کرتا کہ میرا عاشق میری خاطر غیروں کے ہاتھوں ہلاک کیا جائے۔وہ ہر غیرت دکھانے والے سے زیادہ اس کے لئے غیرت دکھاتا ہے اور اس موقع پر جب یہ آواز بلند ہوتی ہے کہ أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ تو اس میں جمال کی بجائے ایک عجیب جلال پیدا ہو جاتا ہے ایک ایسی ہیبت پیدا ہو جاتی ہے کہ کسی اور آواز میں کبھی ایسی ہیبت پیدا ہوتی نہیں دیکھی گئی۔خدا اپنے محبوب بندوں کے لئے ، اپنے عاشقوں کے لئے اعلان کرتا ہے لَا خَوفُ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ کہ میں ان کا ساتھی ہوں، یہ میرے دوست ہیں تم کون ہوتے ہو ان پر ہاتھ اٹھانے والے؟ تم کون ہوتے ہوان کی