خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 333
خطبات طاہر جلد ۲ 333 خطبہ جمعہ ۱۷/جون ۱۹۸۳ء ہیں یعنی سونگھنے کی طاقت، سنے کی طاقت ، دیکھنے کی طاقت، چکھنے کی طاقت اور لمس یعنی چھونے کی طاقت اور اس کے علاوہ دو قسم کے اور رستے ہیں جو انسان کو داخل ہونے کے لئے یا نکلنے کے لئے یعنی دخول اور خروج کے لئے دیئے گئے ہیں۔انسان کو بعض قسم کے ایسے رستے عطا ہوئے ہیں جن کے اندر دونوں طاقتیں ہیں۔ان کے اندر چیز داخل بھی ہوسکتی ہے اور خارج بھی ہوسکتی ہے۔انسانی زندگی میں ان کو بہت اہمیت حاصل ہے۔پس ان دروازوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو انسانی جہان کے سات دروازے بنتے ہیں ( اور سات آسمانوں کے گویا سات دروازے ہیں)۔یہ رمضان المبارک کی برکت ہے اور عبادت کا ایسا ایک ہی طریق ہے جو ان ساتوں دروازوں پر پہرے بٹھا دیتا ہے اس کے علاوہ ایک بھی ایسی عبادت آپ سوچ نہیں سکتے جو انسان کے ان قومی پر اور ان رستوں پر کامل طور پر حاوی ہو جائے۔پس آنحضرت ﷺ کے کلام سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ جب کسی مومن کی زندگی میں رمضان داخل ہو جاتا ہے تو وہ سات قوتوں کے رستے جو اس کو جنت کی طرف بھی لے جا سکتے ہیں اور جہنم کی طرف بھی لے جاسکتے ہیں وہ ساتوں رستے جنت کی طرف لے جانے کے لئے وقف ہو جاتے ہیں۔وہ ساتوں رستے آسمانوں کے دروازے بن جاتے ہیں۔گویا تنزل کی بجائے رفعتوں کی طرف لے جانے کے لئے ممد اور مددگار ثابت ہوتے ہیں۔شیطان ان سات رستوں سے ہی انسان پر حملے کرتا ہے۔فرمایا ایسے مومن کا شیطان جکڑا جاتا ہے اور کوئی راہ نہیں پاتا کیونکہ ان ساتوں رستوں پر اللہ کی رضا کے پہرے بیٹھے ہوتے ہیں۔ان ساتوں رستوں پر خدا کے فرشتوں کا پہرہ ہوتا ہے۔شیطان بالکل بے بس اور عاجز آجاتا ہے۔گویا روزہ ایک ایسی کامل عبادت ہے کہ جس کے نتیجہ میں شیطان کے لئے انسانی نفس میں داخل ہونے کے لئے کوئی بھی راہ باقی نہیں رہتی۔پس اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان اپنی ان سات قوتوں کو یا ذرائع کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع کر دیتا ہے تو گویا آسمان سے اس کے لئے سات دروازے کھولے جاتے ہیں۔سات کا عدد ایک symbolic یعنی علامت ہے اور اظہار کا ایک طریق ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ وہ انسان جو اپنی ساری قوتوں کو اللہ کی مرضی کے تابع کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ کی ساری طاقتیں اس کے لئے رحمت کے دروازے کھول دیتی ہیں۔ایسے شخص پر جب خدا کے فضل سے آسمان کے دروازے کھلتے ہیں تو وہ یہ سات نہیں رہتے بلکہ بے شمار دروازے کھل جاتے ہیں۔اس لئے مومن کا کام یہ ہے کہ رمضان کی