خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 332
خطبات طاہر جلد ۲ 332 خطبہ جمعہ ۷ ارجون ۱۹۸۳ء والوں پر بھی آتا ہے اور فسق و فجور میں مبتلا رہنے والوں پر بھی آتا ہے۔اس لئے ایک بات تو قطعی ہے کہ اس کے عمومی معنے درست نہیں کیونکہ جہاں تک رمضان کے مہینہ کا تعلق ہے اس مہینہ میں دنیا کی بھاری اکثریت پہلے کی طرح فسق و فجور میں مبتلا رہتی ہے اور رمضان کی قطعا پر واہ نہیں کرتی۔پس یہ کہنا کہ اس مہینہ میں شیطان جکڑا جاتا ہے یا رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور غضب کے دروازے بند ہوتے ہیں یہ دراصل حدیث کے مفہوم کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔آنحضور ﷺ نے جب یہ فرمایا إِذَا دَخَلَ شَهُرُ رَمَضَان (سنن نسائی باب فضل شهر رمضان ) کہ جب شھر رمضان داخل ہو جاتا ہے تو اس سے یہ مراد نہیں کہ بالعموم ساری دنیا پر برکتیں نازل ہوتی ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کا مہینہ وہاں وہاں برکتیں لے کر آتا ہے جہاں جہاں وہ داخل ہوتا ہے۔آنحضرت ﷺ انتہائی فصیح و بلیغ انسان تھے۔آپ کی زبان مبارک میں ایسی فصاحت و بلاغت تھی کہ کتاب اللہ کے بعد کبھی کسی انسان نے کسی دوسرے انسان سے ایسی فصاحت و بلاغت نہیں دیکھی۔چنانچہ اس حدیث کے آغاز ہی میں آنحضور ﷺ نے اس کو سمجھنے کی چابی رکھ دی۔آپ نے فرمایا إِذَا دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَان کہ جب جب اور جہاں جہاں ماہ رمضان داخل ہوگا وہاں وہاں یہ کیفیات پیدا کرے گا اور مراد یہ ہے کہ رمضان جب اپنی پوری شرائط کے ساتھ کہیں داخل ہوگا تو انسان کے لئے برکتوں کا موجب بنے گا۔ورنہ عملاً رمضان کوئی ایسی چیز تو نہیں ہے جو شہروں میں داخل ہو جائے یا ملکوں میں داخل ہو جائے یہ تو انسان کے وجود میں داخل ہوتا ہے۔مراد یہ ہے کہ جس انسان کے وجود میں رمضان کا مہینہ داخل ہو جائے گا اس کے جہان میں نیک تبدیلیاں پیدا ہو جائیں گی۔اس کے زمین و آسمان میں تبدیلیاں پیدا ہو جائیں گی یعنی جہاں تک انسان کا تعلق ہے وہ انسان جو اپنے آپ کو رمضان کے تابع کر دے تو گویا رمضان المبارک اپنی ساری برکتوں کے ساتھ اس انسان میں داخل ہو گیا۔اس طرح ایسے انسان کے جہان میں جو بھی جنت کے دروازے ہیں وہ سارے کھل جائیں گے اور جہنم کے جتنے دروازے ہیں وہ بند کر دیئے جائیں گے۔یعنی اللہ کی رحمت کے دروازے اس پر کھولے جائیں گے اور اس کا شیطان زنجیروں میں جکڑا جائے گا۔یہ ہے اس حدیث کا اصل مفہوم۔چنانچہ اس پہلو سے جب ہم مزید غور کرتے ہیں تو یہ جانا مشکل نہیں رہتا کہ وہ دروازے کون سے ہیں۔جہاں تک انسان کی ذات کا تعلق ہے انسان کے پانچ حواس تو وہ ہیں جن کو حواس خمسہ کہتے