خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 331 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 331

خطبات طاہر جلد ۲ 331 خطبہ جمعہ ۱۷/جون ۱۹۸۳ء اور پھر فرمایا: رمضان کو اپنی زندگیوں میں داخل کر لیں (خطبہ جمعہ فرموده ۷ ارجون ۱۹۸۳ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے سورہ بقرہ کی درج ذیل آیہ کریمہ تلاوت کی : يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ) (البقرة : ۱۸۴) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے رمضان المبارک سے متعلق فرمایا کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطان کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور ایک اور روایت میں ہے کہ اللہ کی رحمت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ خواہ وہ آسمان کے دروازے ہوں یا جنت کے دروازے ہوں ان دروازوں سے کیا مراد ہے اور جو دروازے بند کئے جاتے ہیں وہ جہنم کے کون سے دروازے ہیں اور کس قسم کی زنجیریں ہیں جن میں شیطان کو جکڑا جاتا ہے اور کیا اس سے ایک عمومی کیفیت مراد ہے یا کوئی خاص معانی ہیں جو بعض حالات میں محدود ہیں اور ان کو ساری دنیا پر عمومی حالت میں چسپاں نہیں کیا جاسکتا ؟ جہاں تک رمضان کے مہینہ کا تعلق ہے یہ تو بظاہر مومنوں پر بھی آتا ہے اور کافروں پر بھی آتا ہے۔خدا کے منکرین پر بھی آتا ہے اور خدا کے ماننے والوں پر بھی آتا ہے۔نیک اور پاک عمل کرنے