خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 330 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 330

خطبات طاہر جلد ۲ 330 خطبه جمعه ۱۰/ جون ۱۹۸۳ء کے مکے مارو۔پس اب تم اس طرح کا روزہ نہیں رکھتے ہو کہ تمہاری آواز عالم بالا پرسنی جائے۔فرماتے ہیں تم بڑے بد بخت ہو۔کبھی تمہارے روزے ایسے ہوا کرتے تھے کہ اتنی ہلکی اور خفی آوازوں میں تم خدا کو یاد کیا کرتے تھے کہ بظاہر انسان ان آوازوں کو نہیں سن رہے ہوتے تھے۔لیکن ان آوازوں میں ایسی قوت پرواز تھی کہ وہ آوازیں عالم بالا پر پہنچا کرتی تھیں اور آج تم نے شور برپا کیا ہوا ہے اور وہ آوازیں زمین سے چمٹی ہوئی ہیں اور زمین کی ہو چکی ہیں۔ان میں قوت پرواز نہیں رہی۔تمہارے منہ سے جھاگ نکل رہی ہے اور طیش میں آکر مکے مار رہے ہو۔لیکن ان آوازوں کے مقدر میں پرواز نہیں لکھی گئی۔ہاں کچھ وہ تھیں گریہ وزاری کی آواز میں جو عالم بالا پرسنی جاتی تھیں۔کیسا پیارا موازنہ کیا ہے۔پس اے احمد یو! تم ہمیشہ ایسی آواز میں اپنے دلوں سے نکالو جو عالم بالا پرسنی جائیں اور زمین والوں کے کان ان سے محروم ہوں تو کوئی پرواہ نہ کرو۔وہی آواز دنیا میں پھیلے گی جس کو خدا سنتا ہے اور پھر خدا کے فرشتے اس کو دنیا میں پھیلا دیا کرتے ہیں۔ایسی آواز میں غالب آنے کے لئے بنائی گئی ہیں ،مغلوب آنے کے لئے نہیں بنائی گئیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔روزنامه الفضل ربوه ۲۵ / جون ۱۹۸۳ء)