خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 325 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 325

خطبات طاہر جلد ۲ 325 خطبه جمعه ۱۰ جون ۱۹۸۳ء ہے جو روزے میں نہ آتا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ خود روزے کا مقصود بن جاتا ہے۔ اس مضمون کی احادیث تو بکثرت ملتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ قرآن کریم میں اس طرف کہاں اشارہ ہے؟ سواول تو یہاں ، جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، روزے کا مقصود اللہ تعالیٰ کی ذات کو قرار دیا گیا ہے ، روزوں کے حکم کے معا بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو رکھ دیا۔ فرمایا اگر روزے رکھو گے تو میں تمہارے قریب آجاؤں گا، اگر عبادتوں کا حق ادا کرو گے تو میں تمہارے پاس ہوں گا لیکن اس سے پہلے جو آیات گزری ہیں ان میں بھی اس مضمون کو بڑے عجیب طریق پر بیان فرمایا۔ چنانچہ فرماتا ہے: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ اس کا ایک معنی یہ ہے کہ رمضان کا مہینہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا ۔ اس پر بہت سے علماء نے بحث اٹھائی کہ قرآن کریم کا آغاز تو ہو سکتا ہے رمضان شریف میں ہوا ہو لیکن یہ کہنا کہ رمضان میں ہی قرآن اتارا گیا ، درست نہیں ہے۔ قرآن کریم تو نبوت کے سالوں میں مختلف وقتوں میں اتر تا رہا ہے۔ اس کا جواب بعض مفسرین نے یہ دیا کہ اصل بات یہ ہے کہ رمضان میں ایک دفعہ پورے کا پورا قرآن نازل ہو جایا کرتا تھا جبکہ سال کے باقی حصے میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔ پس اُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ سے مراد یہ ہوگی کہ آنحضور ﷺ کو جبرائیل رمضان شریف میں قرآن دہرایا کرتا تھا یہاں تک کہ جب قرآن مکمل ہو گیا تو پھر جو رمضان آیا ہوگا اس میں لا ز ما سارا قرآن ایک دفعہ اتر گیا۔ یہ معنی بھی درست ہیں ۔ ان کو غلط نہیں کہا جا سکتا کیونکہ قرآن کریم کے بہت سے بطون ہیں مگر حضرت مصلح موعودؓ نے جو ترجمہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ رمضان وہ مہینہ ہے جس کے بارے میں گویا سارا قرآن اتارا گیا ہے۔ یعنی قرآن شریف کیوں اتارا گیا ہے؟ اس کا جواب دیا کہ رمضان شریف کے متعلق اتارا گیا ہے ( تفسیر کبیر جلد دوم از افاضات حضرت مصلح موعود صفحه ۳۹۴۔ زیر آیت شهر رمضان الذی انزل فیہ القرآن) ۔ اب بظاہر تو اب بظاہر تو قرآن شریف بہت زیادہ وسیع ہے اور رمضان کے جو احکامات ہیں وہ محدود ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اگر آپ تجزیہ کریں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی کہ قرآن کریم صلى الله جس جس مقصد کی خاطر ا تارا گیا ہے وہ سارے مقاصد رمضان شریف میں پورے ہو جاتے ہیں ۔ ایک بھی مقصد بلکہ اس کا ایک ذرہ بھی رمضان شریف سے باہر نہیں رہ جاتا۔ عبادت کی جتنی بھی قسمیں - بیان ہوئی ہیں وہ ساری روزوں کے اندر آ جاتی ہیں ۔ خدمت خلق کی جتنی قسمیں بیان ہوسکتی ہیں وہ