خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 322
خطبات طاہر جلد ۲ 322 خطبه جمعه ۱۰/جون ۱۹۸۳ء ایسی ہیں کہ جب تک کوئی ان میں سے نہ گزرے اس کو ان کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔دنیا کی باقی قوموں میں کوئی ایسا جبری نظام نہیں ہے کہ ہر امیر کو مجبور کر دیا جائے کہ کم از کم ایک مہینہ اپنے غریب بھائیوں کا دکھ محسوس کرو اور ان کا دکھ اپنے اوپر وار د کرو تا کہ تمہیں احساس ہو کہ معاشرہ کیا ہوتا ہے؟ اسلامی روزہ یہ احساس پیدا کرتا ہے جو روزہ رکھنے والے ہیں وہ جب کسی سے مزدوری لے رہے ہوتے ہیں تو ان کے دل کی اور کیفیت ہوتی ہے جو بے روزگار ہیں جن کو کوئی اندازہ ہی نہیں کہ بھوک کیا ہوتی ہے اور بھوک سے کام میں کیا مشکل پڑتی ہے ان کے دل کی اور کیفیت ہوتی ہے۔اول الذکر یعنی جو روزہ رکھنے والے ہیں اور کام لے رہے ہوتے ہیں ان کے احساس کے نتیجے میں معاشرے میں بڑا حسن پیدا ہو جاتا ہے۔معاشرے میں انسانی قدریں آجاتی ہیں۔غریب اور امیر میں دوری بڑھتی نہیں بلکہ فاصلے کم ہو جاتے ہیں۔بسا اوقات وہ مزدوروں کو خود روکتے ہیں کہ ٹھہرو، ہم تمہیں پانی پلاتے ہیں ، ہم تمہارے لئے کھانے کا انتظام کرتے ہیں، ایسی سہولتیں مہیا کرتے ہیں جو ان کے Contract یا معاہدے میں شامل نہیں ہوتیں۔وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان کو کم از کم ایک مہینہ روزے کی ٹریننگ دے چکا ہوتا ہے۔چنانچہ اس سے دوری کی بجائے آپس میں محبت پیدا ہوتی ہے لیکن بعض ظالم ایسے ہیں ( اور بڑی کثرت سے ایسے لوگ ملتے ہیں ) جو مزدور سے کام لے رہے ہوتے ہیں اور ساتھ گالیاں بھی دے رہے ہوتے ہیں کہ تم سے چلا نہیں جاتا ، دوڑو، تیزی سے کام کرو، اپنا وقت پورا کرو۔حالانکہ اس غریب کے پیٹ میں روٹی نہیں ہوتی۔کمزوری محسوس ہو رہی ہوتی ہے۔گرمی میں اور سردی میں اس کی جان نکل رہی ہوتی ہے اور یہ ظالم پوری طرح بے حس اور بے تعلق ہو کر مزدوروں سے زبر دستی کام لے رہے ہوتے ہیں گویاوہ کسی دوسری دنیا کی مشین ہیں۔پس انسانی قدروں کو بڑھانے کے لئے روزہ ایک بہت ہی اہم چیز ہے۔روزہ نام ہے غریب کے ساتھ دکھ بانٹنے کا۔جب آپ مجبورا دکھ نہیں بانٹ سکتے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے پھر سکھ بانٹو۔اپنے سکھ غریبوں کو دو اور اس طرح ان کے ساتھ شریک ہو جاؤ۔جو نعمتیں تمہیں ملی ہیں وہ ان کو بھی عطا کرو۔چنانچہ فدیے میں یہ روح رکھی کہ ہر شخص اپنی توفیق کے مطابق فدیہ دے۔فدیہ جس کو دینا ہے اس کی حیثیت کے مطابق نہیں دینا۔اس فلسفے کو اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر بڑا نمایاں کر دیا ہے کہ