خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 319 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 319

خطبات طاہر جلد ۲ 319 خطبه جمعه ۱۰ جون ۱۹۸۳ء کی تختی میں روزے رکھے ۔ اگر وہ بعد میں سردیوں کے آسان روزے بھی رکھ لیتا ہے تب بھی اس کا فرض پورا ہو جاتا ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ سختی اللہ تعالیٰ کے پیش نظر نہیں ۔ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينِ اس پر بہت سی بحثیں اٹھائی گئی ہیں کہ يُطِيقُونَ سے کیا مراد ہے؟ واقعہ یہ ہے کہ اس کے جو مختلف پہلو ہیں وہ ہر امکان پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ بعض مفسرین کے معنی ٹھیک ہیں اور دوسرے مفسرین کے غلط ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ انسانی زندگی کے حالات میں دونوں قسم کے مواقع بلکہ کئی قسم کے ایسے مواقع پیدا ہوتے ہیں جن پر اس حصے کے مضمون کو پھیر کر منطبق کریں تو ہر موقع پر آیت چسپاں ہو جاتی ہے۔ سب سے پہلے تو يُطِيقُونَہ کا مثبت ترجمہ ہے۔ یعنی یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ لوگ جو فدیہ کی طاقت رکھتے ہیں۔ فرمایا ہم رخصت تو تمہیں دے رہے ہیں ۔ بیمار ہو یا سفر پر ہو تو بے شک بعد میں روزے پورے کر لو لیکن روزہ نہ رکھنے کا تمہیں جو غم لگ جائے گا کہ سارے لوگ روزہ رکھ رہے ہیں اور ہم محروم رہ رہے ہیں ، ہم تمہیں اس بوجھ کو ہلکا کرنے کی ایک ترکیب بتاتے ہیں کہ تم کسی غریب کو کھانا کھلا دیا کرو۔ اس سے تمہیں جو لذت حاصل ہو گی وہ اس غم کو کم کر دے گی کہ تم روزہ نہیں رکھ سکے۔ پس يُطِيقُونَہ سے یہ مراد ہے کہ جن کو طاقت ہو، جن کے اندر استطاعت ہو کہ وہ غریب کو کھانا کھلا سکیں ان کے لئے بڑی سہولت ہے کہ وہ یہ کام کریں ۔ اس طرح ان کا یہ غم کہ ہم روزے سے محروم رہ گئے کسی حد تک کم ہو جائے گا۔ لیکن اس ترجمے پر بعض دوسرے مفسرین کو اعتراض ہے کہ يُطِيقُونَہ میں ضمیر فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينِ کی طرف پھیری گئی ہے لیکن اس کا ذکر بعد میں آ رہا ہے اور یہ اعلیٰ ادبی تقاضوں کے خلاف ہے کہ جس کا آپ ذکر کر رہے ہیں وہ بعد میں آئے اور ضمیر اس کی طرف پہلے پھیر دیں اس لئے انہوں نے کہا کہ یہ فصاحت و بلاغت کے خلاف ہے۔ دوسرے ان کو یہ اعتراض بھی پیدا ہوا کہ اگر “ کی ضمیر فدیہ کی طرف پھیریں تو فدیہ تو مونث ہے لیکن ضمیر مذکر کی پھیری گئی ہے یعنی 66699 يُطِيقُونَہ میں ذکر کے لئے ہے اگر مونث کی طرف ضمیر پھیرنی ہو تو يُطِيقُونَ ه ہو تو يُطِيقُونَهَا چاہئے تھا۔ ان دونوں باتوں کا بہترین جواب حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی نے دیا ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ جہاں تک اول الذکر اعتراض کا تعلق ہے ۔ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينِ نحوی لحاظ