خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 316 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 316

خطبات طاہر جلد ۲ 316 خطبه جمعه ۱۰/جون ۱۹۸۳ء اور پھر فرمایا: فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقرة : ۱۸۴ - ۱۸۷) یہ جمعہ جو ہم آج پڑھ رہے ہیں یہ رمضان شریف سے پہلے آخری جمعہ ہے اور انشاء اللہ آئندہ جمعہ رمضان المبارک کے ایام میں آئے گا اس لئے آج کے خطبے کے لئے میں نے وہ آیات چنی ہیں جن کا تعلق رمضان المبارک سے ہے اور جن میں روزہ رکھنے سے متعلق ہدایات دی گئی ہیں اور اس کے فوائد سے آگاہ کیا گیا ہے۔سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ مومنوں کو یہ بتاتا ہے کہ تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں۔تم سے پہلے لوگوں پر بھی فرض کئے گئے تھے لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔اس کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں۔ایک تو یہ کہ پڑھنے والا یہ سمجھے گا کہ اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے کہ دیکھو، ہم صرف تم پر ہی بتی نہیں کر رہے بلکہ تم سے پہلے لوگوں پر بھی کافی سختی ہوئی تھی اس لئے جہاں وہ بے چارے روزوں میں پکڑے گئے وہاں تم بھی پکڑے جارہے ہو، تو کیا فرق پڑتا ہے۔لیکن یہ مفہوم ہرگز یہاں مراد نہیں ہے۔دوسرا مفہوم یہ ہے کہ ہم نے پہلوں کو بھی ایک نعمت عطا کی تھی۔تم اس رسول کے ماننے والے ہو جس نے نعمتوں کو تمام کر دیا اور درجہ کمال تک پہنچا دیا اس لئے تمہارا زیادہ حق بنتا ہے کہ ہم یہ نعمت تمہیں عطا کریں۔لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ کیونکہ روزوں کا نتیجہ تقویٰ ہے اور تقویٰ کی سے زیادہ حضرت محمد مصطفی علی نے دی اس لئے ضرور تھا کہ پہلوں سے زیادہ شان کے ساتھ تم پر روزے فرض کئے جاتے۔مِنْ قَبْلِكُمُ میں قرآن کریم اس طرف بھی اشارہ فرما رہا ہے کہ کوئی بھی مذہب ایسا نہیں جس میں روزے فرض نہ کئے گئے ہوں اور تاریخ میں اس کا ذکر ملتا ہے۔چنانچہ انسائیکلو پیڈیا برٹین کا اس مضمون پر لکھتا ہے کہ دنیا میں جتنے بھی مذاہب آئے ہیں ان میں ایک بھی ایسا نہیں جو روزے کے تصور سے خالی رہا ہو انسائیکلو پیڈیا برٹین کا زیر لفظ Fasting)۔یہ تحقیق اگر چہ آج کے زمانہ میں آسان ہے کیونکہ ساری دنیا کے مختلف تاریخی حالات مجتمع ہو چکے ہیں اور کتابی صورتوں میں انسان کی دسترس