خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 26
خطبات طاہر جلد ۲ 26 خطبه جمعه ۱۴/جنوری ۱۹۸۳ء چیز ہو اس کے متعلق تو کہہ سکتے ہیں کہ بے چارے کو غلط نہی پیدا ہوگئی لیکن بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا نفس متکبر ہوتا ہے جبکہ ان کے پاس کوڑی کی چیز بھی نہ ہو تب بھی وہ متکبر رہتے ہیں۔ان کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِذَا قِيْلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسَبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ (البقرة: ۲۰۷) کہ جب اسے کہا جاتا ہے کہ اللہ کا خوف کرو تمہیں خدا کی خاطر نصیحت کی جا رہی ہے اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِتم اس کو اپنے نفس کی عزت پکڑ لیتی ہے گناہ کے ساتھ۔یعنی یہ قرآن کریم کی عجیب ترکیب ہے جس کا معنی یہ ہے کہ نفسانی عزت اسے گناہ پر چمٹے رہنے پر مجبور کر دیتی ہے وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے اس معمولی نظر آنے والے انسان کی بات مان لی تو گویا میں جھک جاؤں گا اور میری عزت نفس کو نقصان پہنچے گا اس لئے یہی ٹھیک ہے کہ گناہ ہے تو گناہ ہی سہی۔میں اپنے اس گناہ کو چھوڑ نے کے لئے تیار نہیں۔یعنی خودی کا جو بگڑا ہوا تصور ہے اس کو بھی قرآن کریم نے بیان کر دیا۔پھر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بعض لوگ ذاتی طور پر نیک مزاج بھی ہوتے ہیں، اثر قبول کرنے والے ہوتے ہیں، ان کے دلوں میں نرمی بھی پائی جاتی ہے لیکن ان کی نرمی کمزوری میں تبدیل ہو جاتی ہے۔یعنی وہ نرمی صفت حسنہ بننے کی بجائے ایک برائی میں تبدیل ہو جاتی ہے اور وہ معاشرہ سے ڈرتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ اکثریت کیا کر رہی ہے۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ بہت سی برائیاں اس وقت عام ہو جاتی ہیں جب لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ اکثریت نے اختیار کر لی ہیں۔بہت کم لوگ ایسے ہیں جن کو اس وقت نیکیوں کا جھنڈا بلند کرنے کی توفیق ملتی ہے۔کہتے ہیں ٹھیک ہے اب تو عام ہو گیا ہے۔جس طرح پردہ کے متعلق میں نے بیان کیا تھا کہ بعض کمزوروں نے کہنا شروع کر دیا اب تو جی سب لوگ بے پردہ ہو رہے ہیں، یہی ٹھیک ہے کہ اب اپنے منہ کھول لو اور با ہر نکل آؤ۔قرآن کریم کی اس حصہ پر بھی نظر ہے۔فرمایا ٹھیک ہے ساری کی ساری قوم بھی اگر گناہوں میں مبتلا ہوکر ہلاک ہو جائے تب بھی وہ ایک ہی عزت کے لائق ہو گا جو اس بہاؤ کے خلاف نیکیوں کے ساتھ چمٹا رہے گا اور اس ایک کے دل کو بڑھاتا ہے اور برائیوں کو کثرت سے اختیار کرنے والوں کو حقیر قرار دیتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: