خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 25
خطبات طاہر جلد ۲ 25 خطبه جمعه ۱۴/ جنوری ۱۹۸۳ء وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فَرَادَى كَمَا خَلَقْنَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُمُ مَّا خَوَّلْنَكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ (الانعام: ۹۵) اس مضمون کو اور بھی کئی جگہ مختلف شکلوں میں پھیلا کر بیان فرما رہا ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادی تم اکیلے ہمارے پاس آؤ گے۔اگر تمہیں اموال کا تحفظ حاصل ہے تو وہ بھی نہیں رہے گا۔اگر تمہیں دوستیوں کا اور افراد کا اور جتھے بندیوں کا تحفظ حاصل ہے یا خاندانی عظمتوں کا تحفظ حاصل ہے تو وہ بھی تمہیں حاصل نہیں رہے گا۔جب جواب دہی کا وقت ہوگا تو ہمارے سامنے تم اکیلے حاضر ہو گے۔كَمَا خَلَقْنَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ اسی طرح اکیلے اور تنہا جس طرح ماں کے پیٹ سے نکلے تھے کوئی قوت تمہارے ساتھ نہیں آئی تھی دوسروں پر تمہارا کلیتہ انحصار تھا بالکل اسی طرح اس وقت بھی تمہارا سارا انحصار مجھ پر ہو گا اس لئے اگر تمہیں یہ خیال ہے کہ اموال و دولت کا تحفظ حاصل ہو گیا ہے اس لئے تم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی نصیحت کو قبول نہیں کر رہے تو فرمایا وَتَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلُنَكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ جو کچھ بھی ہم نے تمہیں عطا کیا تھا سب کچھ اپنے پیچھے چھوڑ آؤ گے۔کیسی عمدگی اور صفائی کے ساتھ دل کے اس داغ کو بھی کاٹ دیا، اس گند کو بھی صاف کیا کیونکہ جب تک انسان کے دل میں یہ وہم موجودر ہے کہ میں مستغنی ہوں، مجھے کوئی پرواہ نہیں ، میرے پاس دولتیں ہیں ، میرے پاس دیگر سہارے ہیں، اس وقت تک انسان نصیحت کو قبول کرنے کا اہل نہیں بنتا۔اور یہ ایک ایسی ٹھوس حقیقت ہے کہ انسان کے تنزل کی تاریخ میں ایک بہت بڑا کردار ادا کرنے والی حقیقت ہے۔کتنی بڑی بڑی بادشاہتیں اس بنا پر ٹوٹ گئیں کہ بادشاہتوں کو اپنی دولتوں اور عارضی طاقتوں کا تحفظ حاصل ہوا اور انہوں نے غریب درویشوں کی باتوں کو نہیں سنا۔چنانچہ اموال کا تکبر بھی انسان کی راہ میں حائل ہو جاتا ہے اور نصیحت کو قبول کرنے کے قابل نہیں رہتا۔پھر نفس کی جھوٹی عزت بھی بہت سے لوگوں کو اچھی باتوں سے محروم کر دیتی ہے۔اور ایک تو نفس کا استکبار ہے۔یعنی ایک ہے بیرونی طور پر انسان کے مالک ہونے کا استکبار اور دوسرانفس کا استکبار ہے۔ان دونوں کو آنحضور ﷺ نے الگ الگ بیان فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو وہ متکبر سب سے برا لگتا ہے جو غریب بھی ہو اور پھر بھی متکبر۔یعنی جس کے پاس مال و دولت ہو، تکبر کے لئے کوئی