خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 309 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 309

خطبات طاہر جلد ۲ 309 خطبه جمعه ۳/ جون ۱۹۸۳ء آفاقی حکمتیں بھی سکھائیں اور اندرونی حکمتیں بھی اس پر روشن کیں۔فرمایا کہ اس کی آفاقی حکمتوں کو پانے کا انداز یہ تھا کہ ابراہیم بسا اوقات اپنے رب کی ذات میں مگن ہو کر دشمن کے دلائل پر غور کیا کرتا تھا اور سوچا کرتا تھا کہ میں دشمن کو کس طرح شکست دوں۔چنانچہ اسی کیفیت میں اس کی آسمان پر نظر گئی اور اس نے ستاروں کو دیکھا اور کہا اچھا یہ ہے میرا رب جو بیان کیا جاتا ہے یعنی یہ جاہل قوم ہے۔ان کے بتوں کی تو ہمارے سامنے کوئی حیثیت نہیں۔جب بتوں سے اوپر جائیں گے تو پھر ستاروں کو پیش کریں گے کہ یہ ہیں تمہارے رب اور پھر جب اس نے ستاروں کو ڈوبتے ہوئے دیکھا تو کہا دشمن کے خلاف کیسی اچھی دلیل ہاتھ آئی۔اب میں ان سے کہوں گا کہ اچھا! یہ میرا رب ہے۔لوڈوب گیا تمہارا رب۔میرا تو یہ رب نہیں ہوسکتا جو ڈوب جانے والا ہو۔پھر وہ اس سے بڑھ کر چاند کو میرے سامنے پیش کریں گے۔یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی Soliloquy یعنی اپنے دل سے باتیں کرنے کی کیفیت دکھائی گئی ہے۔ان کا از خود باتیں کرنا اور فکر میں ڈوبنا اور خدا کی خاطر دلائل تلاش کرنا ، آفاق سے دلائل حاصل کرنا جیسا کہ قرآن کریم خود بیان کر رہا ہے۔نُرِى إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمواتِ وَالْاَرْضِ ہم نے اس کو زمینی حجتیں بھی دی تھیں ، زمینی دلائل بھی اس پر روشن کئے تھے اور آسمانی حجتیں بھی اس کو عطا کی تھیں اور آسمانی دلائل بھی اس پر روشن کئے تھے اور طریق کار یہ تھا کہ وہ خدا کی ذات میں گم ہو کر بیٹھا سوچا کرتا تھا۔اور پھر چاند پر اس کی نظر پڑی اور اس نے کہا کہ اچھا ستاروں کے بعد یہ چاند میرا رب بنایا جائے گا گویا کہ یہ میرا رب ہے تو چاند کو بھی اس نے ڈوبتے ہوئے دیکھا جیسا کہ ہمیشہ سے دیکھا کرتا تھا اور کہا کہ اچھی دلیل ہاتھ آئی۔میں کہوں گا اچھا یہ بڑا ہے، شاید یہ ہومیر ارب لیکن دیکھ یہ بھی تو ڈوب گیا اور میں ڈوبنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔اور پھر سورج کو اس نے دیکھا اور کہا اس کے بعد دشمن کے پاس اور کوئی چیز پیش کرنے والی نہیں ہے۔کائنات میں سب سے بڑی سب سے طاقتور اور سب سے زیادہ موثر چیز جودشمن کو دکھائی دیتی ہے وہ سورج ہے۔تو میں ان سے کہوں گا هذا رتی یہ ہے میرا رب هذا اكبر یہ سب سے بڑا ہے اس لئے اگر کوئی رب ہونے کا حق رکھتا ہے تو یہ ہے مگر یہ رب تو روز ڈوبتا ہے اور ڈوبنے والا میرا رب کس طرح ہوسکتا ہے اس لئے تمہیں یہ رب مبارک ہوں مجھے یہ اب ہر گز کسی قیمت پر قبول نہیں ہیں۔انی وَجَهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِى فَطَرَ السَّمَوتِ وَالْاَرْضَ یہ دلیل کامل ہوئی کہ میں تو اپنا