خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 308 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 308

خطبات طاہر جلد ۲ 308 خطبه جمعه ۳/ جون ۱۹۸۳ء کرنے والے کہتے ہیں گویا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے (نعوذ باللہ ) منہ کی کھائی۔منہ کی تو وہ کھاتا ہے جس کا جھوٹ موقع پر پکڑا جائے اور جو ذلیل ہو جائے اور پھر اپنے کئے کی سزا پانے کے لئے اسے مقتل کی طرف گھسیٹا جائے وہ شخص منہ کی کھاتا ہے یا وہ جو دھوکے میں نہیں آتا؟ تو گویا تفسیر نے سارے مضمون کو الٹ دیا۔اللہ تعالیٰ تو یہ بیان فرمارہا تھا کہ میرا بندہ اتنادلیر، اتنا قوی اور ایسے شاندار دلائل پیش کرتا ہے کہ دلائل کے رنگ میں اس نے ایک ایسی بات بیان کی کہ دشمن اپنی شکست تسلیم کرنے پر مجبور ہو گیا اور دشمن جانتا تھا اس وقت بھی کہ ابراہیم محض اس کو ذلیل کرنے کی خاطر یہ طریق اختیار کر رہا ہے بچنے کی خاطر نہیں کیونکہ بچنے کی خاطر اگر طریقہ اختیار کرنا ہوتا تو پہلے خودان کو کیوں بتاتا ؟ اس لئے جب وہ ذلیل و خوار ہوئے اور حجت باقی نہ رہی تب وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے اور ابراہیم کے مقابل پر تلوار اٹھانے کی کوشش کی اور آگ میں جلانے کی دھمکی دی۔جو آیات میں نے آج تلاوت کی ہیں ان میں توحید کا مضمون خصوصیت کے ساتھ بیان ہوا ہے اور انہی آیات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف بعض مفسرین نے شرک منسوب کیا ہے۔آپ کا درجہ صداقت آپ کی حق گوئی کا کمال بھی دکھایا گیا ہے اور انہی آیات میں مفسرین کو وہ مقام مل گیا جہاں کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جھوٹ بولا۔یعنی حق کی خاطر جھوٹ بولا ، اللہ کی خاطر جھوٹ بولا۔حیرت انگیز تضاد ہے۔حق اور جھوٹ کا کیا تعلق؟ روشنی اور اندھیرے کا کیا تعلق؟ خدا کی خاطر جھوٹ بولنا تو ایسا لغو فعل ہے جسے کوئی معمولی عقل کا انسان بھی نہیں کر سکتا کجا یہ کہ اللہ بڑی شان کے ساتھ ایک کامل اور صادق نبی پیش کر رہا ہو اور بیان یہ کر رہا ہو کہ دیکھو میرے بندہ نے میری خاطر جھوٹ بولنے کی کوشش کی تھی مگر کامیاب نہیں ہوا۔کیسا لغو خیال بن جاتا ہے۔ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے اور اس کا آغا ز دیکھئے کہ کس شان کے ساتھ کیا گیا ہے۔فرماتا ہے کہ ابراہیم تو شروع سے ہی میری خاطر لوگوں سے بحث کرنے والا تھا۔بچپن سے ہی وہ میرا تھا اور اپنے چچا سے بحثیں کیا کرتا تھا کہ یہ کیا جھوٹے بت بنا کر تم ان کے آگے بیٹھ رہے ہو۔میں تمہیں بھی اور تمہاری قوم کو بھی کھلی کھلی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں۔پس یہ ہے مضمون کا آغاز جس میں ایک کامل موحد کی شان بیان کرتے ہوئے پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ابراہیم کو اسی حالت پر نہیں رہنے دیا۔اس پر ہم نے عرفان کی بارش کی ، اس کو