خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 307 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 307

خطبات طاہر جلد ۲ 307 خطبه جمعه ۳/ جون ۱۹۸۳ء تعلق نہیں دیکھو گے۔وَمَا آنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ کسی حالت میں بھی مجھے شرک کرنے والوں میں سے نہیں پاؤ گے۔علاوہ ازیں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی تیسری خوبی یہ بیان فرمائی گئی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام حجت میں کمال رکھتے تھے۔دلائل اور براہین میں آپ کو ایک غیر معمولی ملکہ عطا کیا گیا تھا۔مقابل پر آپ ایسے براہین پیش کرتے تھے اور ایسے دلائل دیا کرتے تھے کہ فبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ (البقرۃ: ۲۵۹) مد مقابل حیران و ششدر رہ جاتا تھا ن كموا عَلَى رُءُوسِهِمْ (الانبیاء: ۲۶ ) مخالف گویا سروں کے بل الٹ جایا کرتے تھے۔لیکن بڑی بدقسمتی ہے کہ سرسری نگاہ سے ان آیات کا مطالعہ کرنے والے بعض لوگوں نے جب تفسیریں لکھیں تو ہر جگہ جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خوبی بیان کی گئی تھی وہیں اس کے برعکس ا نقص بیان کرنے شروع کر دیئے ، جہاں سچائی کا کمال دکھایا گیا تھا وہاں جھوٹ نظر آ گیا ، جہاں توحید کی شان بتلائی گئی تھی وہاں شرک دکھائی دیا اور جہاں کمال درجہ کی محبت بتائی گئی وہاں ایک ایسی لغو دلیل آپ کی طرف منسوب کر دی جو بالکل بے کار، بے معنی اور بے حقیقت ہو۔بسا اوقات یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا دشمنی کی آنکھ سے دیکھا گیا ہے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ یہ بات نہیں۔نادان کی دوستی بعض اوقات ہو شیار دشمن کی دشمنی سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔غفلت کی آنکھ سے دیکھا گیا ہے دشمنی کی آنکھ سے نہیں دیکھا گیا لیکن نتیجہ وہ نکالا جو دشمن کو مطلوب تھا اور اس طرح دشمن کے ہاتھ مضبوط کئے گئے۔چنانچہ میں نے ایک مثال پچھلے خطبہ میں آپ کے سامنے رکھی تھی۔اب میں دوسری مثال آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔گزشتہ خطبہ میں جن آیات کی میں نے تلاوت کی تھی ان کی تفسیر میں لکھتے وقت بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صدق پر بھی حملہ کیا گیا اور آپ کی حجت پر بھی حملہ کیا گیا یعنی قرآن کریم کی طرف سے جو خو بیاں بیان کی گئی تھیں ان کو الٹا کر دیکھا گیا۔اللہ تعالیٰ تو بڑے فخر سے اس واقعہ کو پیش فرمارہا ہے اور فرماتا ہے دیکھو! کیسی شاندار حجت تھی ابراہیم کی لیکن اس کے برعکس بتایا یہ جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بت توڑنے کے بعد جھوٹ کے ذریعہ بچنے کی کوشش کی تھی لیکن ایسا کمزور اور الیسا بودا سا جھوٹ تھا کہ فوراً پکڑا گیا۔اور خدا فرماتا ہے کہ دشمن نے منہ کی کھائی اور بیان