خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 301
خطبات طاہر جلد ۲ 301 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۳ء گزر چکے ہیں اور آئندہ بھی گزرتے رہیں گے۔ہم ان آگوں سے گزرے ہیں اس لئے ہم جانتے ہیں کہ بعینہ اسی طرح ہوا کرتا ہے۔آج قرآن کریم کی آیت ( قُلْنَالنَّارُكُوْنِي بَرْدًا وَ سَلَمَّا عَلَى إبراهيم (الانبیاء:۷۰)۔ناقل ) کی صداقت کی سب سے بڑی گواہ جماعت احمدیہ اور دوسرے حصے کی بھی گواہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب حضرت ابراہیم کو قوم نے کہا کہ ابراہیم کو آگ میں ڈالے بغیر چارہ نہیں رہا تب ہم نے کہائنَا رُكُونِي بَردَا وَ سَلَمَّا عَلَى ابْرُ هِیمَ کہ اے آگ ! میرے ابراہیم پر ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی بن جا اور امن کی جگہ بن جا۔وَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْتُهُمُ الْأَخْسَرِينَ انہوں نے بھی ایک تدبیر کی لیکن ہم نے ان کی تدبیر کو الٹ دیا اور وہ گھاٹا پانے والوں میں سے ہو گئے۔پس جس جماعت نے قرآن کی گواہی کے ایک حصے کو بڑی شان کے ساتھ پورا ہوتے دیکھا ہے اور اس کے بعد کے حصے کو بھی بڑی شان کے ساتھ پورا ہوتے دیکھا ہے اور بارہا ایسے واقعات گزر چکے ہیں اس کو دنیا کی کون سی آگ ڈرا سکتی ہے۔خواہ وہ ظاہری آگ ہو تب بھی وہ آگ مسیح موعود علیہ السلام کی غلام اور آپ کے غلاموں کی غلام بن کر رہے گی۔خواہ وہ باطنی آگ ہو اور لفظ آگ معنوی طور پر استعمال کیا گیا ہوتب بھی میں آپ کو خوشخبری دیتا ہوں کہ وہ آگ مسیح موعود علیہ السلام کی غلام اور آپ کے غلاموں کی غلام بن کر رہے گی اور جس طرح پہلے ابراہیم پر آگ ٹھنڈی کی گئی تھی اس ابراہیم پر بھی ٹھنڈی کی جائے گی۔یہ ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس کو دنیا کی کوئی قوم بدل نہیں سکتی ، کوئی حکومت تبدیل نہیں کر سکتی۔تمام دنیا کی طاقتیں مل کر بھی اس کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔دراصل یہ ایک جاری و ساری حقیقت ہے۔کوئی نئی چیزیں نہیں ہے۔جب سے آدم آئے اور جب تک اللہ کی طرف سے آنے والوں کا سلسلہ جاری رہے ہمیشہ یہی ہوتا آیا ہےاور یہی ہوتا رہے گا۔وہ لوگ جوخدا کے نام پر کوئی اعلان حق کرتے ہیں ان کے لئے لازماً آگ جلائی جاتی ہے اور لازماً ان کے لئے اس آگ کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے اور گلزار میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔یہ دو لفظوں میں سچائی اور جھوٹ کے مقابلے کی کہانی ہے جسے قرآن کریم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ پر آخر پر نتیجہ نکال کر ہمارے سامنے پیش کیا۔اس میں شک نہیں کہ دلائل یقینا سچائی کے ساتھ ہوا کرتے ہیں اور براہین قاطعہ ہمیشہ سچوں