خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 24
خطبات طاہر جلد ۲ لله 24 خطبه جمعه ۱۴/جنوری ۱۹۸۳ء مارتا ہے۔ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَا لَهُمْ بِذلِكَ مِنْ عِلْمٍ وہ زندگی اور موت کے فلسفہ سے ناواقف ہیں۔وہ یہ نہیں جانتے کہ زندگی کے محرکات کتنے عظیم الشان اور کتنے گہرے اور کتنے وسیع ہیں اور موت کا نظام بھی کتنا کامل نظام ہے اور کس طرح مربوط اور منضبط ہے۔ان کو کوئی علم نہیں ہے مَا لَهُمْ بِذلِكَ مِنْ عِلْمٍ اِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ فنی باتیں ہیں ان کی یعنی اس زمانہ کا انسان بھی اس آیت کا مخاطب ہے اور جوں جوں انسان کا شعور اور بصیرت بڑھتی چلی جاتی ہے وہ اپنی لاعلمی کا پہلے سے بڑھ کر اقرار کرتا چلا جاتا ہے۔موت اور زندگی کے جو محرکات ہیں اور اس کے جو اسباب اور موجبات ہیں یہ اتنے گہرے اور اتنے تفصیلی ہیں اور یہ ایک ایسا عظیم الشان نظام ہے کہ اگر اس کو اس علم کے مطابق بھی بیان کیا جائے جو آج تک انسان کو حاصل ہوا ہے تو مدتیں چاہئیں اس کے بیان کے لئے اور آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں جب کہ انسان کا شعور بہت ہی ابتدائی مرحلہ پر تھا یا انسان کا علم اس معاملہ میں بہت ہی ابتدائی مرحلہ پر تھا اس وقت بھی جاہل بڑی بڑی چھلانگیں مارتے تھے اور حقیقت یہ ہے کہ تکبر ہمیشہ جہالت کی پیدا وار ہوتا ہے اور علم سے ہمیشہ انکسار پھوتا ہے۔تومَا لَهُمُ بِذلِكَ مِنْ عِلْمٍ کہہ کر ان کے تکبر کی طرف بھی اشارہ کر دیا۔جاہل لوگ ہیں، پتہ ہی کچھ نہیں اس لئے بے دھڑک ہو کر باتیں کرتے ہیں۔اگر ان کو ذرا بھی علم ہوتا کہ کیا نظام ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے سامنے خوف زدہ ہو جاتے۔پھر نصیحت کے تعلق میں انسان کی اس بے نیازی کو بعض دفعہ اموال بھی بڑھا دیتے ہیں یعنی انسان کو ایک تحفظ حاصل ہو جاتا ہے کہ گویا میں مالدار ہوں اور میں نصیحت کرنے والے کا محتاج نہیں ہوں۔وہ غریب آدمی ایک ایسا انسان جو غلاموں میں مقبول ہے اور خود بھی غریب ہے اور اسے کئی وقت کی روٹی بھی میسر نہیں آتی ، جو ملکیت تھی وہ لوگوں کو دے بیٹھا اب تو اس کے پاس کچھ بھی نہیں رہا یعنی محمد مصطفی لیے یہ مجھے کہتے ہیں اور مجھے عاقبت سے ڈراتے ہیں ان کی تو اپنی حیثیت کوئی نہیں۔میرے پاس اموال ہیں، میرے پاس دولتیں ہیں، میں ان نصیحتوں سے بے نیاز ہوں۔جب انسان کے دل میں یہ خیالات پیدا ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان نصیحت کو قبول کرنے کا اہل نہیں رہتا۔یعنی جھوٹا اور غلط تحفظ انسان کو نصیحت کی احتیاج سے مستغنی کر دیتا ہے۔اس کا جواب دیتے ہوئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: