خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 278
خطبات طاہر جلد ۲ 278 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۳ء اس طرز بیان میں کوئی گستاخی نہیں ہے۔بڑی ہی عاجزی کا اظہار ہے کہ میری انسانی عقل میری بشری نظر اس معمے کوحل نہیں کر سکتی۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ معمہ کھولا اور فرمایا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صالح کہ اے نوح ! وہ تیرا بیٹا کس طرح ہو گیا ، وہ تیرے اہل بیت میں سے نہیں تھا اس لئے کہ اس کے عمل گندے تھے۔چنانچہ ہمیشہ کے لئے اہل بیت کی تعریف فرما دی۔فرمایا کوئی ظاہری رشتہ اور ظاہری خون کا تعلق کسی کو نہیں بچا سکے گا۔ادنیٰ لوگوں کو بھی نہیں بچا سکے گا کیونکہ زیادہ سے زیادہ اظہار محبت اور پیار اللہ تعالیٰ نبی سے کر سکتا ہے۔پس نبی کا ظاہری خون بھی اس کی ایسی اولادکو نہیں بچا سکا جس نے اس خون کی قدر نہیں کی ، اس کے پیغام کی حفاظت نہیں کی اور اپنے اعمال صالحہ میں نبی کے اعمال صالحہ کو جاری نہیں کیا اس لئے جو روحانی طور پر کاٹا گیا وہ جسمانی طور پر بھی کاٹا گیا۔یہ ایک اور سبق ہے جس کی طرف میں جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ کشتی نوح میں حفاظت کی خوشخبری تو ضرور ہے، اہل خاندان کے لئے بھی اور ان کے لئے بھی جو خاندان سے ظاہری تعلق تو نہیں رکھتے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیمات پر عمل کر کے اس کشتی میں سوار ہورہے ہیں لیکن یہ ضمانت اس وقت تک ہے جب تک اعمال صالحہ موجود رہیں گے۔جب بھی اعمال صالحہ میں کمزوری واقع ہوئی تو وہ خدا جس نے حضرت نوح کے بیٹے کو ہلاکت سے نہیں بچایا وہ آئندہ بھی کبھی نہیں بچائے گا ورنہ وہ ہمیشہ کے لئے غیر منصف خدا سمجھا جائے گا۔یہ ممکن نہیں ہے کہ حضرت نوح کے زمانے میں تو خدا نے نبی کے ظاہری بیٹے کو بچانے سے انکار کر دیا لیکن بعد کے کسی زمانے میں ظاہری اولاد کی قدر کرتے ہوئے اسے اس لئے بچالیا کہ کسی پیارے کی اولاد ہے۔کیا قیامت کے دن حضرت نوح یہ سوال نہیں کر سکیں گے کہ اے خدا! مجھے بھی تو تو نے ہی نبی بنایا تھا مجھ سے بھی تو تو نے ہی پیار کا اظہار کیا تھا ایسا پیار کہ میری خاطر ساری دنیا کو ہلاک کر دیا اور کوئی پرواہ نہیں کی ، تو میرے بیٹے کو کیوں معاف نہیں کیا۔جبکہ بعد میں آنے والوں کے بیٹوں کو معاف کیا گیا۔ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ کے انصاف پر یہ ایک ایسا الزام ہے جو کبھی نہیں لگایا جاسکتا۔اس لئے جہاں امن کا مقام ہے وہاں خوف کا بھی مقام ہے۔جہاں خوشخبری سے ہمارے دل بلیوں اچھل رہے ہیں کہ تمام دنیا کے طوفان مل کر بھی ہمیں ہلاک نہیں کر سکیں گے وہاں یہ خوف بھی