خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 272 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 272

خطبات طاہر جلد ۲ 272 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۳ء لیکن یہ تو بعد کی باتیں ہیں۔میں ایک اور کشتی کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانی چاہتا ہوں۔یہ کشتی بھی خدا کی آنکھوں کے سامنے بنائی گئی اور خدا تعالیٰ کی ہدایات کے تابع تشکیل دی گئی۔وہ کشتی آپ ہیں یعنی جماعت احمدیہ۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً بتایا کہ تو ایک کشتی تیار کر۔وہ کشتی کیا ہے؟ وہی جماعت احمد یہ جس میں شامل ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ یہ ضمانت دیتا ہے کہ تمام دنیا کی ہلاکتوں سے تم محفوظ کئے جاؤ گے۔پس حضرت نوح علیہ السلام کی ظاہری لکڑی کی کشتی کی بھی بڑی قدر و قیمت ہے اور اس کو تلاش کرنے والے بھی یقینا بڑے خوش قسمت ہوں گے لیکن بہت زیادہ قیمتی ہے وہ کشتی جو حضرت نوح کی قوم کو نہیں بلکہ حضرت محمد مصطفی مے کی قوم کو عطا ہوئی جو پہلے ایک تعلیم کی شکل میں ظاہر ہوئی اور پھر اس تعلیم نے ایک جماعت کا روپ دھار لیا اور ایک جماعت کی شکل میں آج وہ دنیا میں موجود ہے اور دنیا کے ہر ملک میں اس کشتی کے نمونے بن رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جتنے اعلیٰ کا ریگر نے کوئی چیز بنائی ہو اتنا ہی زیادہ ظلم ہوتا ہے اس میں دخل اندازی کرنا اور اس کی شکل کو بگاڑنا کیونکہ ایک کامل تصویر کو اگر ایک ادنی نقاش چھیڑے گا تو اس میں کوئی خوبصورتی پیدا نہیں کر سکے گا بلکہ بدصورتی پیدا کرے گا۔ایک کامل صناع کی پیداوار میں اگر کوئی اناڑی دخل دے گا تو سوائے اس کے کہ اس کی اچھی بھلی صورت کو بگاڑ دے اور کوئی نتیجہ نہیں پیدا کر سکتا۔پس یہ کشتی یعنی جماعت احمد یہ وہ مقدس کشتی ہے جس کے خدو خال خود اللہ تعالیٰ نے اپنی آنکھوں کے سامنے اور اپنے وحی کے مطابق تشکیل دیئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس نظام کو ڈھالنے میں اپنی طرف سے ایک ذرہ بھی دخل نہیں دیا۔آپ کی اپنی سوچ کا اس میں کوئی بھی دخل نہیں۔کشتی نوح کے متعلق جیسا کہ میں نے بیان کیا، اللہ تعالیٰ بہت کھلے اور واضح طور پر فرماتا ہے کہ اس کی تمام تفاصیل ہم نے بتا ئیں اور اسے اپنی نگرانی میں بنوایا۔پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وہ تعلیم جس نے جماعت احمدیہ کی شکل میں جسم اختیار کیا کشتی نوح ہے اور یقیناً یہ کشتی نوح ہے تو اس کا ہر پہلو، اس کا ہر ذرہ اور اس کی ہر نوک پلک اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تابع بنی ہے۔اس لئے خوبصورت جماعت کے خدو خال کو زندہ اور جاری رکھیں۔اگر تا بعین نے یا تبع تابعین نے ان نقوش میں فرق ڈال دیا اور تبدیلیاں پیدا کر دیں تو پہلے بھی اگر چہ جماعتیں یہ ظلم کرتی چلی آئی ہیں لیکن یہ بہت بڑا ظلم ہوگا کہ ایسی جماعت جس کو اللہ تعالیٰ نے کشتی نوح سے تشبیہ دی ہو اور نہایت