خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 269
خطبات طاہر جلد ۲ 269 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۳ء اللہ تعالی کی تیار کردہ کشتی ، جماعت احمد خطبه جمعه فرموده ۱۳ مئی ۱۹۸۳ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے درج ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: وَأُوحِيَ إِلى نُوحٍ أَنَّهُ لَنْ يُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ إِلَّا مَنْ قَدْ مَنَ فَلَا تَبْتَبِسْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُوْنَ وَاصْعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلَا تُخَاطِبُنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُّغْرَقُونَ (هود: ۳۷ - ۳۸) پھر فرمایا: ج میں نے گزشتہ خطبہ جمعہ میں حضرت نوح علیہ السلام کی اس دعا کا بھی ذکر کیا تھا جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا گویا آپ نے اپنی قوم کے لئے بالآخر بددعا کی اور اپنے رب سے عرض کی کہ ایک خدا! ان کا فروں میں سے کوئی ایک بھی باقی نہ رہے اور دنیا کو ان سے اور ان کی ناپاک پیدا ہونے والی نسلوں سے ہمیشہ کے لئے پاک کر دے۔ساتھ ہی میں نے یہ بھی بیان کیا تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام کی یہ دعا در اصل بددعا نہیں تھی بلکہ منشاء الہی کے مطابق آپ کو پہلے سے خبر دے دی گئی تھی کہ اب اس قوم میں کوئی بھی ہدایت پانے والا موجود نہیں ہے اور چونکہ انسانی زندگی کے مقصد کے خلاف ہے کہ کوئی انسان خدا تعالیٰ کو کلیۂ بھلا کر ہمیشہ کے لئے اس سے کٹ جائے اور اس کی آئندہ نسلیں بھی نا پاک پیدا ہوں، اس لئے ان لوگوں کے لئے دعا کی اجازت ہی نہیں دی گئی تھی۔