خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 263
خطبات طاہر جلد ۲ 263 خطبہ جمعہ ۶ رمئی ۱۹۸۳ء گے جو زمین میں لوٹا دیئے جائیں گے وہ زمین کو پسند کر لیں گے اور ان میں سے کچھ ایسے ہوں گے جن کو پھر خدا تعالیٰ دوبارہ نکالے گا اور پھر ان رفعتوں کی طرف بلند کرے گا جن کا وعدہ دیا جاتا ہے۔اسکے بعد فرمایا وَ اللهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًا لِتَسْلُكُوا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًان دیکھو اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لئے اس کے ناہموار ہونے کے باوجود تمہاری نظر میں ایسا ہموار کر دیا ہے کہ تم اس میں کھلے کھلے رستے پاتے ہو اور ان میں سفر کرتے ہو، اس نیت اور اس ارادہ کے ساتھ خدا تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لئے ہموار کیا ہے۔پس ایک قوم کو جھنجھوڑنے کے لئے جتنی بھی امکانی نصیحتیں ہو سکتی ہیں وہ ساری حضرت نوح علیہ السلام کی اس نصیحت کے اندر آ جاتی ہیں اور یہ ساری نصیحت ایک دعا کے رنگ میں ہے اور یہ نصیحت دعا اس طرح بن جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور حضرت نوح عرض کرتے ہیں کہ اے خدا! میرے حال پر بھی نظر کرم فرما کہ میں نے تیری خاطر کتی کتنی تکلیفیں برداشت کیں کیسے کیسے جتن کئے۔اس میں نہ صرف یہ کہ قرآن کریم نے نصیحت کا انداز سکھا دیا بلکہ دعا کا انداز بھی سکھا دیا اور وہ یہ کہ دعا ایسے رنگ میں کرو کہ اللہ تعالیٰ کی تمہارے دل پر اور تمہاری دلی کیفیات پر محبت اور پیار کی نظریں پڑنے لگیں تا کہ پھر خدا تمہاری دعاؤں کو رد نہ کرے بلکہ وہ اپنے فضل سے ان کو قبول فرمالے۔غرض یہ حضرت نوح علیہ السلام کی طرز دعا تھی جس میں نصیحت کا ریکارڈ بھی مکمل ہو گیا اور ایک نبی کی دعا کی طر ز بھی ہمارے لئے محفوظ کر دی گئی اور یہ بھی بتادیا گیا کہ دعا کا حق وہ رکھتے ہیں جو پہلے دعا کرنے کا حق ادا کرتے ہیں۔محض روکھی سوکھی منہ کی دعائیں کرنے سے تم یہ نہ سمجھو کہ خدا تعالیٰ تمہارے منہ کی نکلی ہوئی ایسی دعاؤں کو ضرور قبول کرلے گا۔دعا ئیں تو وہ قبول ہوتی ہیں جن کے پیچھے گہرا جذ بہ پایا جاتا ہے، جن کے ساتھ گہرا خلوص وابستہ ہو ، تقویٰ کے اندر ان کی جڑیں ہوں، پاک اعمال سے وہ دعائیں ابھریں۔چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام نے مختلف حالات میں جو دعائیں کیں ان میں یہ ساری باتیں آجاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو تم بھی ویسی ہی کوششیں کرو۔اپنی طاقتوں کے مطابق اپنی کوششوں کو انتہا تک پہنچا دو۔پھر تمہارا حق ہو گا کہ تم اپنے رب کے حضور دعائیں کرو۔پھر دیکھو اللہ تعالیٰ کس طرح ان کو قبول فرماتا ہے۔