خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 250 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 250

خطبات طاہر جلد ۲ 250 خطبه جمعه ۲۹ ر ا پریل ۱۹۸۳ء ہو تو کرو اور اگر قبول نہیں کرتے تو نہ کرو۔خود ہی اللہ کو جواب دو گے۔اسے تو یہ بات بجتی ہی نہیں۔اگر ایسا کہے گا تو پاگلوں والی بات ہوگی۔وہی انسان ایسی بات کہہ سکتا ہے اور اسی کے منہ سے یہ کلمہ نکل سکتا جو اپنے رب پر اور یوم آخرت پر کامل یقین رکھتا ہے۔اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔فرق ان کو پڑتا ہے جو نصیحت نہیں مانتے۔جو سچا ہے وہ تو پیغام پہنچا کر ایک طرف ہو جاتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ میں تمہارا دکھ تو محسوس کر رہا ہوں لیکن تم اس دنیا میں میری طرف سے کوئی زیادتی نہیں دیکھو گے۔کسی قسم کا جبر نہیں پاؤ گے کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ میرے رب نے مجھے بھیجا ہے اور مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ آخر تم نے مرنا ہے اور ایک دن خدا کے حضور پیش ہونا ہے اس لئے تم جانو اور تمہارا رب جانے۔میں کیوں اس معاملے میں خواہ مخواہ دخل اندازی کروں۔پھر ایک اور عجیب بات بیان کی گئی ہے۔مذہب کی تاریخ ایسی ہے کہ بچے بھی ہمیشہ ایک ہی قسم کی باتیں کرتے ہیں اور جھوٹے بھی ایک ہی قسم کی باتیں کہا کرتے ہیں اس طریق میں آپ کوئی فرق اور تبدیلی نہیں دیکھیں گے۔آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تک آجا ئیں جو آپ کے کامل غلام کا زمانہ ہے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ سو فیصدی وہی دلائل سچائی کی طرف سے دیئے جا رہے ہیں جو پہلے دیئے جاتے رہے اور سو فیصدی وہی دلائل جھوٹ کی طرف سے دیئے جار ہے ہیں جو ہمیشہ مخالفین دیتے چلے آئے ہیں۔چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام اپنی قوم کے انکار کی ایک وجہ بیان کر کے اس کا جواب دیتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آمْ يَقُولُونَ افْتَریہ کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ نوح نے اللہ پر جھوٹ بولا ہے؟ کیسی احمقانہ باتیں کر رہے ہیں قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَعَلَى اجرا می فرمایا اے نوح! ان سے کہہ دیں کہ اگر میں نے جھوٹ بولا ہو تو اس کا وبال مجھ پر پڑے گا، تمہیں کیا تکلیف ہے۔اس میں بھی ایک حیرت انگیز فطری دلیل دی گئی ہے جس کے لئے نہ کسی علم کی ضرورت ہے نہ منطقی چالا کیوں کی ضرورت ہے۔ایک سیدھی سادی دلیل ہے جو دل سے نکلتی ہے اور دل میں ڈوب جاتی ہے۔پہلے یہ مسلک اختیار کیا کہ اگر تم خدا کے پیغام کو نہیں مانتے تو میرا تم پر کوئی جبر نہیں کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ تم خود ہی جوابدہ ہو گے۔اب فرمایا کہ جب میں تمہارے معاملات میں دخل نہیں دیتا، پیغام پہنچاتا ہوں اور ایک طرف ہٹ جاتا ہوں تو تمہیں کیا حق ہے کہ تم مجھ پر زبردستی کرو۔اگر میں