خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 249
خطبات طاہر جلد ۲ 249 خطبه جمعه ۲۹ اپریل ۱۹۸۳ء کتنی عظیم الشان اور باقی رہنے والی صداقت ہے جو بیان فرمائی گئی۔حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نصیحت تو اس لئے کرتا ہوں کہ وہ تمہارے دلوں میں اتر جائے۔میری خواہش اور ارادہ ہے کہ جس طرح بھی بن پڑے میں تمہیں سچائی کی طرف لے آؤں لیکن اس کے باوجود میں از خود کچھ نہیں کرسکتا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں ایک بے طاقت انسان ہوں، میں اپنی بے بسی سے واقف ہوں ، میرے قبضہ قدرت میں کچھ بھی نہیں ہے۔ہاں ! اللہ جو دلوں کا مالک ہے وہ اگر چاہے گا تو یہ نصیحت تمہیں فائدہ دے گی اور اگر نہیں چاہے گا تو فائدہ نہیں دے سکے گی لیکن اگر تم نے میری نصیحت نہ مانی تو تمہیں مجھ سے کوئی خوف نہیں کرنا چاہئے۔مومنوں کو خدا نے کیسی عجیب نصیحت کی ہے اگر کوئی تمہاری نصیحت نہ مانے تو ہرگز غصہ نہیں کرنا، ہرگز دھمکی نہیں دینی ، قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لینا، یہ فیصلہ نہیں کر لینا کہ چونکہ فلاں نے میری نصیحت نہیں مانی اس لئے میں اس کے ساتھ یہ سلوک کروں گا۔اس کے مقابل پر جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا یہ کہنا چاہئے کہ اللہ تمہارا رب ہے میں تو تمہارا رب نہیں۔جان تم نے اس کو دینی ہے اور اس کے حضور حاضر ہونا ہے۔میں یہاں فیصلے کرنے لگ جاؤں کہ تمہیں یہ سزا ملے گی اور وہ سزا ملے گی تو کیسی غیر معقول بات ہوگی۔اس طرز کلام میں بہت بڑی صداقت ہے۔جو شخص خدا کی ہستی پر ایمان نہ لاتا ہو اور خدا پر افترا کر رہا ہو، اگر قوم اس کا پیغام قبول نہ کرے تو وہ آخرت پر بنا کر کے نہیں بیٹھ جاتا۔اس کو تو نظر آ رہا ہوتا ہے کہ یہی دنیا ہے، جو کچھ ہو گا یہیں ہوگا۔جھوٹے کو تو اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ اگر میں ناکام ہوا تو ہمیشہ کے لئے ناکام ہو جاؤں گا۔اگر قوم نے میری بات کو رد کر دیا اور پھر میں نے اسے سمجھانے کے اور ذرائع اختیار نہ کئے تو گویا میں اس دنیا سے نامراد جاؤں گا، اس لئے وہ بات کو یہیں نہیں چھوڑتا۔جب اس کا انکار کیا جاتا ہے تو پھر وہ اور ذرائع سوچتا ہے، فراڈ سے ، دھو کے سے، چالبازیوں سے غرض یہ کہ جس طرح بھی بن پڑے وہ کوشش کرتا ہے کہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو۔اگر دہشت پسندی سے اس کا کام چلے گا تو وہ دہشت پسندی کو اختیار کرنے سے بھی دریغ نہیں کرے گا۔چنانچہ اس وقت جتنی بھی دہر یہ تو میں ہیں ان کے پیغام کو جب دوسری قو میں نہیں مانتیں تو وہ ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرتی ہیں۔کسی جھوٹے یاد ہر یہ سے آپ کبھی یہ بات نہیں سنیں گے کہ اگر تم اشتراکیت کو قبول کرتے