خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 248 of 744

خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 248

خطبات طاہر جلد ۲ 248 خطبه جمعه ۲۹ را بریل ۱۹۸۳ء پھر بھی یہ کہیں کہ ہمارا اجر ہمارے خدا کے پاس ہے۔اپنے ماننے والوں کے متعلق فرمایا کہ یہ جو تم کہتے ہو کہ میرے ساتھ گھٹیا اور حقیر لوگ ہیں تو میں تمہیں کیسے سمجھاؤں کہ یہ بچے ہیں۔میں ان کے دل پر نظر رکھتا ہوں اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان کے دل کتنے پاک ہیں اور ان میں میرے رب کے لئے کتنا پیار ہے۔ان کے دلوں پر خدا کی نظر ہے اس لئے میں ان غریبوں کو تمہاری خاطر ہرگز دھتکار نہیں سکتا۔کیسا دوٹوک اور صاف جواب ہے۔باقی جہاں تک ان کی غربت اور کم مائیگی کا تعلق ہے حضرت نوح نے فرمایا کہ اگر چہ میں یہ دعویٰ تو نہیں کرتا کہ عِنْدِي خَزَائِنُ الله میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور کسی ظاہری لالچ کے نتیجے میں یہ غریب آئے بھی نہیں کیونکہ میں نے اس قسم کا دعوئی ہی نہیں کیا۔میں نے یہ تو نہیں کہا کہ آؤ گے تو تمہیں پیسے دوں گا بلکہ ایسے بلانے والے تو خدا کی خاطر خدا کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے پیسے مانگا کرتے ہیں نہ کہ اپنی ذات کے لئے لیکن میں تمہیں ایک بات بتا دیتا ہوں لَا أَقُولُ لِلَّذِيْنَ تَزْدَرِى أَعْيُنُكُمْ لَنْ يُؤْتِيَهُمُ اللهُ خَيْرًا میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ اللہ ان کو مالدار نہیں بنائے گا کیونکہ تقدیر الہی یہی ہے کہ وہ غریب جو اپنا سب کچھ لے کر خدا کی راہ میں حاضر ہوا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو مالدار بنا دیا کرتا ہے اور ان کو غریب نہیں رہنے دیتا۔یہ لوگ تمام دنیا سے زیادہ مالدار ہو جاتے ہیں اور دنیا کے لئے معطی بن جاتے ہیں۔پھر حضرت نوح علیہ السلام فرماتے ہیں اللهُ اَعْلَمُ بِمَا فِي أَنْفُسِهِمْ إِنِّى إِذَا لَمِنَ الظَّلِمِينَ کہ میرے اللہ کو پتہ ہے کہ ان کے دل کی کیا حالت ہے۔اگر تمہاری طرح میں بھی ان سے تذلیل کا سلوک کروں اور ان کو گھٹیا سمجھوں تو میں ظالموں میں سے شمار کیا جاؤں گا۔اس کے بعد آپ فرماتے ہیں وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِي إِنْ أَرَدْتُ أَنْ أَنْصَحَ هُوَرَبُّكُمْ وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُونَ یعنی اے لوگو! میں تمہیں نصیحت تو کرتا ہوں لیکن یہ بھی جانتا ہوں کہ اگر اللہ نے یہ فیصلہ کرلیا کہ وہ تمہیں گمراہ رکھے تو میری نصیحت تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گی خواہ میں کتنی بھی خواہش رکھوں کہ یہ نصیحت تمہیں فائدہ پہنچا دے۔هُوَرَبُّكُمْ وَ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ تمہارا رب میں نہیں ہوں وہ ہے تمہارا رب جس کے فیصلے کے نتیجے میں یا ہدایت ملتی ہے یا ہدایت سے قو میں محروم رکھی جاتی ہیں اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔