خطبات طاہر (جلد 2۔ 1983ء) — Page 247
خطبات طاہر جلد ۲ 247 خطبہ جمعہ ۲۹ اپریل ۱۹۸۳ء میں جو شیطان کی لعنت کے ساتھ آتا ہے زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے، نظری اور سرسری فیصلہ بتا سکتا ہے کہ کون خدا کے ساتھ ہے اور خدا کی رحمت کے ساتھ آیا ہے اور کون شیطانی صفات رکھتا ہے اور شیطان کی لعنتیں اس کے ساتھ وابستہ ہو چکی ہیں۔ فرمایا یہ تو کھلی کھلی بات ہے اگر تمہیں نظر نہیں آتا اور تم اندھے ہو چکے ہو تو میں تمہارے ساتھ کیا کر سکتا ہوں؟ انكُرِمُكُمُوهَا وَأَنْتُمْ لَهَا كَرِهُونَ جب تم پسند ہی نہیں کرتے تو میں کیسے زبر دستی تمہیں منوا سکتا ہوں؟ بات یہاں ختم ہوگئی ، مزید آگے نہیں چلی ۔ حضرت نوح علیہ السلام نے صرف اتنا کہا کہ فطرت کی آواز تھی لیکن جن کی فطرتیں مسخ ہو چکی ہیں ان تک نہیں پہنچ سکی۔ ایسے بصائر تھے جو بینات تھے، چاند سورج کی طرح روشن تھے۔ مگر جن کی آنکھیں اندھی ہیں وہ ان کو نہیں دیکھ سکے۔ میں اب اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا مجھ میں یہ طاقت نہیں کہ میں زبر دستی تمہیں منوالوں ۔ ایک اور بڑی عجیب بات اس سے یہ معلوم ہوئی کہ جب سے دلائل اور مجاہدے کا آغاز ہوا ہے ایسے مجاہدے کا جس کی تفصیلات قرآن کریم نے محفوظ فرمائی ہیں ، جبر کا صداقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوا۔ جبر ہمیشہ مخالفین اور جھوٹوں کے ہاتھ میں رہا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام کے وقت سے لے کر حضرت محمد مصطفی علی کے وقت تک ایک واقعہ بھی آپ کو ایسا نہیں ملے گا جس میں بچوں کی طرف سے جبر کیا گیا ہو اور جھوٹوں نے نصیحت سے کام لیا ہو۔ بلا استثنا سچوں نے ہمیشہ نصیحت سے کام لیا اور جھوٹوں نے جبر کی کوشش کی۔ پس حضرت نوح علیہ السلام نے کہا آنكْرِمُكُمُوهَا وَأَنْتُمْ لَهَا كَرِهُونَ ہمیں تو یہ بات سجتی ہی نہیں ہے کہ ہم جبر سے کام لیں۔ جبر سے ہمارا کوئی تعلق ہی نہیں ہے، ہمیں تو کوئی سلیقہ معلوم نہیں جس کے ذریعے ہم صداقت کو زبردستی تمہارے اندر داخل کر سکیں۔ ہاں ! اگر تمہیں : ! جبر گر تمہیں جبر کے طریقے معلوم ہوں تو تم وہ استعمال کرتے رہو۔ لیکن سچائی کا جبر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ پھر حضرت نوح علیہ السلام نے ایک لمبی نصیحت کی جس میں فرمایا کہ دیکھو! تمہیں سچائی کے آثار کیوں نظر نہیں آتے ۔ میں تم سے کوئی لالچ نہیں رکھتا ، نہ ہی میں کوئی ذاتی مطالبات لے کر آیا ہوں، میں تو تم سے ماریں کھاتا ہوں، تکلیفیں اٹھاتا ہوں اور پھر بھی یہی کہتا ہوں کہ میرا اجر اللہ کے پاس ہے۔ کبھی تم نے جھوٹوں میں بھی یہ آثار دیکھے ہیں کہ کوئی ذاتی حرص نہ ہو بلکہ اپنے اموال لٹار ہے ہوں ، کوئی مدد نہ چاہیں بلکہ دوسروں کی مدد کر رہے ہوں ۔ دوسروں کی خاطر تکلیفیں اٹھا رہے ہوں اور